اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے قریب آتے ہی وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کے سیاسی مخالفین کے درمیان مقابلہ سخت ہوگیا ہے، نیتن یاہو کو طویل عرصے سے اقتدار سے محروم ہونے کا خطرہ لاحق رہا ہے، تاہم انتخابی دوڑ میں فرق کم ہونے کے باعث ان کے مخالفین کے لیے بھی حکومت بنانے کا واضح راستہ سامنے نہیں آیا۔
یہ انتخابات اکتوبر 2023 کو فلسطین پر حملے کے بعد اسرائیل کے پہلے پارلیمانی انتخابات ہیں۔ اس حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوا جبکہ اسرائیل نے غزہ اور لبنان میں جنگ لڑی اور ایران پر فضائی حملے بھی کیے۔
بنجمن نیتن یاہو: طویل سیاسی سفر اور اقتدار بچانے کی جدوجہد
بنجمن نیتن یاہو 2009 سے بیشتر عرصے اسرائیل کے وزیراعظم رہے ہیں، جبکہ اس سے قبل وہ 1990 کی دہائی میں بھی وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔ وہ عالمی سطح پر اسرائیل کی نمایاں سیاسی شخصیت اور اپنے ملک میں ایک متنازع رہنما سمجھے جاتے ہیں۔
نیتن یاہو کے حامی انہیں ’کنگ بی بی‘ کہتے ہیں اور دشمنوں میں گھرے خطے میں اسرائیل کے دفاع کے لیے مضبوط قیادت قرار دیتے ہیں۔ دوسری جانب غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے الزامات پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے مطلوب ہونے اور اسرائیل میں بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا کرنے کے باعث ان کی سیاسی پوزیشن دباؤ میں ہے۔ جبکہ نیتن یاہو ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
7 اکتوبر کے حملے کے بعد نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی، جس سے ان کی سکیورٹی پالیسیوں پر سوالات اٹھے۔ مذہب اور ریاست سے متعلق ان کی حکومتی پالیسیوں کو بھی بہت سے اسرائیلیوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔ لیکن اس کے باوجود نیتن یاہو سیاسی طور پر مضبوط بقا کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں وہ ایک وسیع قومی حکومت قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اگر کسی جماعت یا اتحاد کو واضح اکثریت نہ ملی تو وہ عبوری وزیراعظم کی حیثیت سے کئی ماہ تک منصب پر برقرار رہ سکتے ہیں۔
نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریف کون ہیں؟
سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ 66 سالہ رہنما ہیں، جنہوں نے غزہ میں لڑائی کے دوران اپنا بیٹا کھویا۔ وہ خود کو روایتی سیاست سے ہٹ کر ایک سکیورٹی پر مبنی رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ وہ نئی معتدل جماعت ”یاشار“ کی قیادت کر رہے ہیں، جس کے نام کا عبرانی زبان میں مطلب ”سیدھا“ یا ”ایماندار“ ہے۔

سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ 54 سالہ سابق کمانڈو اور دائیں بازو کے رہنما ہیں، جو ماضی میں نیتن یاہو کے معاون بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے سابق وزیراعظم یائیر لاپید کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ ان کی نئی جماعت کا نام ”ٹُوگیدر“ ہے، جس کی انتخابی مہم قومی اتحاد، ملک میں معمولات کی بحالی اور معاشرتی زخموں کو مندمل کرنے کے پیغام پر مرکوز ہے۔ دونوں رہنما مختلف سیاسی نظریات کے باوجود 2021 میں نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے میں کامیاب ہوئے تھے۔

سابق وزیر دفاع 68 سالہ ایوگدور لیبرمین کبھی نیتن یاہو کے قریبی اتحادی رہے ہیں۔ جبکہ وہ فلسطینی عسکریت پسندوں کے معاملے میں نیتن یاہو سے بھی زیادہ سخت مؤقف رکھتے ہیں۔ 2018 میں انہوں نے غزہ کے حوالے سے نیتن یاہو کی پالیسی کو نرم قرار دیتے ہوئے حکومت چھوڑ دی تھی۔ ان کی جماعت ”اسرائیل ہمارا گھر“ کو سابق سوویت یونین سے آنے والے تارکین وطن کی حمایت حاصل ہے۔

سابق جنرل یائیر گولان کو حماس حملے کے دوران لوگوں کو بچانے کے حوالے سے سراہا گیا تھا۔ وہ ڈیموکریٹس جماعت کی قیادت کرتے ہیں، جو اسرائیل کی تاریخی لیبر پارٹی کے باقی ماندہ دھڑوں اور بائیں بازو کی جماعت میرٹز کے امتزاج سے قائم ہوئی۔

نیتن یاہو کے سخت گیر اتحادی بھی انتخابی میدان میں
اسرائیل کے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور وزیر قومی سلامتی ایتامار بن گویر نیتن یاہو کے اہم اتحادی ہیں۔ فلسطینیوں کے حوالے سے ان کی انتہائی دائیں بازو کی پالیسیوں پر عالمی سطح پر شدید تنقید ہوتی رہی ہے۔
سموٹریچ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے حامی ہیں اور فلسطینی ریاست کے قیام کے تصور کو ختم کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔
بن گویر کو 2007 میں عربوں کے خلاف نسل پرستانہ اشتعال انگیزی کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ وہ سزا یافتہ فلسطینی عسکریت پسندوں کے لیے سزائے موت، جیلوں میں قید فلسطینیوں کے لیے سخت شرائط اور اسرائیلی شہریوں کے لیے اسلحہ رکھنے میں آسانی کے حامی ہیں۔
دونوں رہنما غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے اور وہاں اسرائیلی آبادکاری کی حمایت بھی کر چکے ہیں۔
مذہبی جماعتیں نیتن یاہو کی سیاسی بقا کے لیے اہم
نیتن یاہو طویل عرصے سے دو انتہائی مذہبی یہودی جماعتوں، یونائیٹڈ تورات جوڈازم اور شاس، کی حمایت پر انحصار کرتے رہے ہیں۔
ان جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ ان کی برادری کے بیشتر افراد کو لازمی فوجی سروس سے استثنیٰ دیا جائے۔ اس کے علاوہ ان کی برادری میں روزگار کی نسبتاً کم شرح اور سرکاری مراعات پر انحصار بھی بہت سے اسرائیلیوں میں ناراضی کا سبب بن رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک جنگی حالات سے گزر رہا ہے۔
چھوٹی جماعتیں انتخابی نتائج کا رخ بدل سکتی ہیں
انتخابی مقابلے میں ایسی جماعتیں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں جو واضح طور پر نیتن یاہو یا ان کے مخالفین کے ساتھ نہیں ہیں۔ ان میں رعام اور جوائنٹ لسٹ شامل ہیں، جو اسرائیل کی تقریباً 20 فیصد عرب آبادی کی نمائندگی کرتی ہیں۔
اس کے علاوہ نئی دائیں بازو کی جماعت ”پیپل آف اسرائیل“ اور مرکز سے دائیں جانب جھکاؤ رکھنے والی جماعت ”دی ریزروسٹس“ بھی انتخابی منظرنامے کا حصہ ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں میں ان جماعتوں کی پوزیشن میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔
ان جماعتوں کا فیصلہ کن کردار حکومت سازی میں اہم ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اگر کسی بڑے اتحاد کو واضح اکثریت نہ ملی تو چھوٹی جماعتوں کی حمایت ہی اقتدار کا فیصلہ کر سکتی ہے۔
ٹرمپ کی نیتن یاہو کے لیے اپیل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات سے قبل ایک بار پھر نیتن یاہو کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی ووٹروں پر زور دیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو ووٹ دیں تاکہ ہم نے جو کام مل کر شروع کیا ہے اسے مکمل کیا جا سکے۔



