اسرائیل میں عام انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔ اسرائیلی پارلیمان کی 120 نشستوں میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں حاصل کرنا ضروری ہے۔
اسرائیلی چینل 12 کے ایگزٹ پول کے مطابق اسرائیلی انتخابات میں کوئی واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکے گا، نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اسرائیلی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی جماعت ہو گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی نتائج سامنے آنے کے دوران اسرائیلی نشریاتی ادارے کان 11 اور چینل 13 کے ایگزٹ پولز میں دونوں سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا، جبکہ چینل 12 کے مطابق نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کی قیادت میں اتحاد کو 52 اور مخالف اتحاد کو 49 نشستیں مل سکتی ہیں۔۔
نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور سابق جنرل گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کے درمیان سخت مقابلہ ہے، جس کے باعث انتخابی نتائج غیر فیصلہ کن دکھائی دے رہے ہیں۔
اسرائیل کے مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا، جو دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں سب سے بلند شرح ہے اور 2022 کے انتخابات کے مقابلے میں تقریباً 7 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔ حتمی انتخابی نتائج جمعرات یا جمعے کو متوقع ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو عام انتخابات کے ایگزٹ پولز کے نتائج سامنے آنے کے بعد یروشلم میں اپنی جماعت کے انتخابی مرکز پر اشارہ کرتے ہوئے۔( فوٹو: رائٹرز)
ادھر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے زور دیا ہے کہ ملک کی طویل مدتی سلامتی یقینی بنانے کے لیے دائیں بازو کی حکومت قائم کی جانی چاہیے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کے مخالف امیدوار سابق اسرائیلی آرمی چیف آئزن کوٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ووٹرز نے طویل عرصے سے اقتدار میں موجود اسرائیلی رہنما کو مسترد کر دیا ہے۔ نیتن یاہو کو سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیے۔
Israel’s Gadi Eisenkot:
I want to address from here all the heads of the defense establishment and the public service.
Netanyahu is a transitional prime minister, without a mandate and without trust.
Remember that you serve the state and the interests of the citizens of Israel alone.
Stand strong and steadfast against any attempt to challenge you.
You have my clear backing.
— Clash Report (@clashreport) October 27, 2026
دونوں رہنماؤں میں سے کسی نے بھی اپنی کامیابی کا اعلان نہیں کیا۔ تاہم دونوں کے بیانات سے انتخابی نتائج کی غیر یقینی صورتحال ختم نہیں ہو سکی۔
گزشتہ روز اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ پولنگ کے روز نقد رقم کے لفافوں اور منصور عباس کے بیلٹ پیپرز کے ساتھ 3 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے، پولیس نے صحرائے نیگیو میں ایک عمارت پر چھاپہ مار کر ہزاروں شیکل کی رقم پر مشتمل لفافے اور بیلٹ پیپرز برآمد کر لیے۔
خیال رہے نیتن یاہو کی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کی پالیسیوں نے اسرائیل کے اندر سیاسی تقسیم کو گہرا کیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی ملک کی تنہائی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود نیتن یاہو خود کو اسرائیل کے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے مضبوط رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
77 سالہ نیتن یاہو گزشتہ 30 برس میں تقریباً 19 سال وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں اور متعدد سیاسی بحرانوں سے نکلنے میں کامیاب رہے ہیں۔
نیتن یاہو کو اسرائیل کی تاریخ کی سب سے بڑی سکیورٹی ناکامی پر تنقید کا سامنا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ حماس، حزب اللہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت کو ہلاک کرکے انہوں نے اسرائیل اور دنیا کو زیادہ محفوظ بنایا ہے۔
2009 کے بعد ان کے مخالفین صرف ایک مرتبہ انہیں اقتدار سے ہٹانے میں کامیاب ہوئے۔ دو سال کے دوران مسلسل چار غیر فیصلہ کن انتخابات کے بعد نیتن یاہو کو وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنا پڑا، تاہم 18 ماہ بعد ہی وہ دوبارہ اقتدار میں واپس آ گئے۔
نیتن یاہو کو حالیہ انتخابات میں بدعنوانی کے دیرینہ مقدمات کا بھی سامنا تھا، جن کی وہ تردید کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر انٹیلی جنس کی ناکامیوں کے حوالے سے بھی تنقید کی جاتی رہی ہے، جن کے باعث حماس 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔



