امریکا اور اسرائیل نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بڑے حملے کرنے کے منصوبہ تیار کر لیا۔
ایک ہفتہ قبل امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کا منصوبہ بنایا ہے، رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایران پر دوبارہ حملوں میں مدر آف آل بمز یعنی ’جی بی یو 43 بی، میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ بم‘ جو امریکا کے پاس موجود سب سے بڑا غیر جوہری بم ہے، کو استعمال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے رواں ہفتے اسرائیل میں وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات بھی کی، جس میں ایران پر ممکنہ نئے حملوں کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کی افواج ممکنہ حملوں کی مشقیں بھی تیز کر چکی ہیں، ممکنہ اہداف میں ایران کی جوہری تنصیبات، میزائل اور ڈرون ذخائر اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ شامل ہو سکتے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک زیرِ زمین تنصیبات، بشمول پِک ایکس ماؤنٹین، کو نشانہ بنانے کے امکان پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
The US and Israeli militaries have reportedly developed plans for renewed strikes against Iran after the US midterm elections, with preparations advancing for a potential short but intensive campaign https://t.co/rtftxLzk7n https://t.co/tSVA6usdVE
— Anadolu English (@anadoluagency) October 22, 2026
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے حملوں کی منظوری دینا یقینی نہیں۔ ٹرمپ ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کی متعدد تجاویز مسترد کر چکے ہیں۔ انہوں نے رواں ماہ کہا تھا کہ امریکا وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان ”مثبت بات چیت“ جاری ہے۔
’ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کیلیے تمام آپشنز کھلے‘
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ انتظامیہ ایسے فوجی منصوبوں پر تبصرہ نہیں کرتی تاہم صدر ٹرمپ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے تمام آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جون میں پاکستان اور قطر کی ثالثی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد تعطل کا شکار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کا معاملہ بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ امریکا نے کچھ عرصہ قبل ایران کی اہم جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان پر حملے کیے تھے تاہم ان حملوں میں تنصیبات کو کتنا نقصان پہنچا، اس حوالے سے مصدقہ اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔



