اسرائیل میں عام انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل جاری ہے جہاں لیکود پارٹی کے امیدوار اور موجودہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اورالیکشن جیتنے کیلئے فیورٹ سابق آرمی چیف گادی آئزنکوت کی قیادت میں جماعت ’یشار‘ کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔
یہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیے جانے والے حملوں کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات ہیں جن کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ گادی آئزنکوت کی ’یشار‘ پارٹی اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئے گی جبکہ نیتن یاہو کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔
اس صورت میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ موجودہ وزیر اعظم کے ہارنے کی صورت میں کیا اسرائیل کی پالیسی میں بھی تبدیلی آنے گی۔ اس بارے میں کوئی رائے قائم کرنے سے قبل یشار پارٹی اور اس کے بانی کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔
گادی آئزنکوت کی زندگی پر ایک نظر
اسرائیل کی فوجی قیادت میں اہم عہدوں پر فائز رہنے والے سابق آرمی چیف گادی آئزنکوت نے فوجی حکمت عملی، علاقائی سلامتی اور سیاسی میدان میں نمایاں کردار ادا کیا۔
4 دہائیوں سے زیادہ عرصے تک اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) میں خدمات انجام دینے والے آئزن کوت نے 2015 میں فوج کی کمان سنبھالی جبکہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد جنگی کابینہ کا حصہ بن کر غزہ میں جنگ کے اہداف کے تعین اور ان کے حصول کے لیے کام کیا۔
2025 میں انہوں نے یشار پارٹی قائم کی جس کا اعلان اسرائیل کو یہودی، جمہوری، محفوظ اور طاقتور ریاست کے طور پر آگے بڑھانے کے عزم کے ساتھ کیا گیا۔
آئزنکوت کی اہلیہ کا نام حنا ہے اور ان کے 5 بچے تھے: گائے، روتم، یاعیل، ویرڈ اور گال، جن کا انتقال غزہ میں جنگ کے دوران ہوا۔
ابتدائی زندگی اور فوجی کیریئر
گاڈی آئزنکوت 1960 میں اسرائیل کے شہر طبریہ میں پیدا ہوئے اور بعد ازاں ایلات میں پرورش پائی۔ 1978 میں انہوں نے اسرائیلی فوج کی گولانی بریگیڈ میں شمولیت اختیار کی جہاں وہ بٹالین 13 میں ایک عام سپاہی سے ترقی کرتے ہوئے بریگیڈ کمانڈر کے عہدے تک پہنچے۔
انہوں نے اسرائیلی فوج میں مجموعی طور پر 41 سال خدمات انجام دیں اور اس دوران متعدد اہم ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ان میں 2 وزرائے اعظم کے ملٹری سیکریٹری، دوسری انتفاضہ کے دوران یہودیہ و سامریہ ڈویژن کے کمانڈر، ڈائریکٹوریٹ آف آپریشنز کے سربراہ، شمالی کمان کے کمانڈر اور ڈپٹی چیف آف اسٹاف کے عہدے شامل ہیں۔
2015 میں وہ اسرائیلی دفاعی افواج کے 21ویں چیف آف اسٹاف مقرر ہوئے۔
حزب اللہ کے خلاف فوجی حکمت عملی
دوسری لبنان جنگ کے بعد شمالی کمان کے کمانڈر اور ڈائریکٹوریٹ آف آپریشنز کے سربراہ کی حیثیت سے آئزنکوت نے ”ضاحیہ ڈاکٹرائن“ وضع کی۔ اس حکمت عملی کے تحت اسرائیل کے ساتھ تصادم کی صورت میں حزب اللہ کے زیر استعمال بنیادی ڈھانچے کے خلاف غیر متناسب ردعمل دینے کا تصور پیش کیا گیا۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے مشرق وسطیٰ میں کھلی اور خفیہ کارروائیوں کے لیے طاقت کے استعمال سے متعلق پالیسی بھی متعارف کرائی، جس کے بارے میں ان کی جماعت کے تعارف میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس سے اسرائیل کو اہم فوائد حاصل ہوئے۔

2015 میں انہوں نے یہودیہ و سامریہ میں چاقو کے حملوں کی لہر روکنے اور غزہ کے اطراف اور شمالی سرحد پر حملے کے لیے استعمال ہونے والی سرنگوں کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے۔
اس دوران انہوں نے ’گیڈون‘ کے نام سے کثیر سالہ منصوبے کو بھی آگے بڑھایا جس کا مقصد زمینی، فضائی اور بحری شعبوں سمیت انٹیلی جنس اور سائبر کے میدان میں اسرائیلی فوج کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا تھا۔
فوج سے سیاست تک
اسرائیلی فوج سے سبکدوش ہونے کے بعد آئزنکوت نے ڈیوڈ بین گوریون ہیریٹیج انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ یہ ادارہ ڈیوڈ بین گوریون کی میراث کو محفوظ رکھنے اور نیگیو کے علاقے کی ترقی کے لیے کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نجی شعبے میں بھی مختلف ذمہ داریاں سنبھالیں۔
2022 میں آئزنکوت اسرائیل کی 25ویں کنیسٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ اگست 2023 میں خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت کے طرزِ عمل اور ملک میں گہری سماجی تقسیم کے باعث اسرائیل کی دفاعی صلاحیت، دہشت، اور علاقائی حیثیت کمزور ہو رہی ہے۔
7 اکتوبر 2023کے حملوں کے بعد جنگی کابینہ میں کردار
7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد آئزنکوت نے جنگی کابینہ میں وزیر کی حیثیت سے کام کیا۔ ان کے مطابق اس مرحلے پر ان کی ذمہ داریوں میں جنگ کے اہداف طے کرنے اور انہیں حاصل کرنے میں کردار ادا کرنا شامل تھا جن میں یرغمالیوں کی واپسی اور حماس و حزب اللہ کو تباہ کرنا شامل تھا۔
اسی جنگ کے دوران ان کے خاندان کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے بیٹے گال آئزنکوت 7 دسمبر 2023 کو غزہ کی پٹی کے علاقے جبالیہ میں یرغمالیوں کی لاشیں بازیاب کرانے کی کارروائی کے دوران لڑائی میں مارے گئے۔ ان کے بھتیجے یوگیو پازی اور ماؤر کوہن آئزنکوت بھی جنگ کے دوران غزہ میں لڑائی میں ہلاک ہوئے۔
یشار پارٹی کا قیام اور سیاسی مؤقف
2025 میں آئزنکوت نے یشار پارٹی قائم کی۔ پارٹی کے تعارف کے مطابق اس کا مقصد اسرائیل کو ایک ایسے حکومتی متبادل کی فراہمی ہے جو ملک کو اس کی درست سمت میں واپس لائے اور اسے یہودی، جمہوری، محفوظ اور طاقتور ریاست کے طور پر برقرار رکھنے کے لیے کام کرے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل کی سلامتی اور خوشحالی میری زندگی کا مشن ہے۔ میں اس مشن کو پورا کرنے کے لیے پُرعزم ہوں۔‘
یشار کے منشور میں کیا کچھ شامل ہے؟
آئزنکوت کی یشار پارٹی نے ملک کے مستقبل، قومی سلامتی، معیشت، تعلیم اور جمہوریت سے متعلق 10 نکاتی منشور پیش کیا ہے، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1۔ قومی یکجہتی اور 7 اکتوبر کے زخموں کا مداوا
7 اکتوبر کے واقعات، اس سے پہلے کی دہائی اور جنگ کے طرزِ عمل کی تحقیقات کے لیے ریاستی تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے گا۔ سوگوار خاندانوں، قید سے رہائی پانے والوں اور ذہنی صدمے سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے جامع منصوبہ بنایا جائے گا۔ مغربی نیگیو اور شمالی اسرائیل کی متاثرہ کمیونٹیز کی تعمیر نو اور بحالی بھی کی جائے گی۔
2۔ قومی سلامتی کو مضبوط بنانا
نیا قومی سلامتی نظریہ تیار کرکے نافذ کیا جائے گا۔ اسرائیلی فوج کو مضبوط بنانے، سرحدوں پر سکیورٹی بڑھانے اور اسرائیل کو علاقائی طاقت بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ امن کے دائرے کو وسیع کرنے، یہودی اکثریت کو نسلوں تک برقرار رکھنے اور عالمی سطح پر اسرائیل کی حیثیت مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
3۔ ریاستی قیادت کی بحالی اور فوج میں سب کی شمولیت
’سب کے لیے قومی خدمت‘ کا قانون منظور کیا جائے گا جس کے تحت انتہائی مذہبی یہودیوں اور عرب برادریوں کو مناسب قومی خدمت کے نظام میں شامل کیا جائے گا، بالخصوص اسرائیلی فوج میں۔ قومی خدمت کرنے والوں کو مراعات اور انعامات دینے کے ساتھ تمام شہریوں کے لیے قومی ذمہ داری میں مساوی حصہ یقینی بنایا جائے گا۔
4۔ تعلیمی نظام کو بہتر بنانا
ایسا تعلیمی نظام تشکیل دیا جائے گا جو شہریوں میں قومی شناخت، ریاست سے وابستگی اور کامیابی کے لیے ضروری صلاحیتیں پیدا کرے۔ سرکاری تعلیمی نظام کو ترجیح، تمام اداروں کے لیے بنیادی نصاب، اساتذہ اور اسکول سربراہان کو زیادہ اختیارات اور بجٹ فراہم کیا جائے گا۔ ٹیکنالوجی کی تعلیم اور یہودی ورثے کو بھی نصاب میں مضبوط بنایا جائے گا۔
5۔ حکومتی ناکامی اور جرائم کا خاتمہ
اسرائیل کی سڑکوں پر سکیورٹی بحال کرنے اور پولیس میں پیشہ ورانہ اقدار کو مضبوط بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں گے۔ منظم جرائم کے خلاف قومی کابینہ قائم ہوگی اور عرب معاشرے سمیت پورے اسرائیل میں تشدد کے خاتمے کے لیے قومی منصوبہ نافذ کیا جائے گا۔ بدعنوانی، منظم جرائم اور بھتہ خوری کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔
6۔ معیشت کو تیز رفتار ترقی دینا اور مہنگائی کا مقابلہ
اسرائیلی معاشرے کے تمام طبقات کو روزگار اور قومی خدمت میں شامل کرنے کے لیے تاریخی اقدام کیا جائے گا۔ قومی خدمت اور پیداواری معاشی کردار ادا کرنے والوں کو رہائشی فوائد، انکم ٹیکس کریڈٹ اور حکومتی امداد میں ترجیح دی جائے گی۔ اجارہ داریوں کا خاتمہ، مسابقت میں اضافہ اور عالمی معیار اپنانے کے ذریعے مہنگائی کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری بڑھائی جائے گی۔
7۔ جمہوریت مضبوط بنانا اور سرکاری اداروں کی اصلاح
اکثریتی فیصلوں، اقلیتوں کے حقوق، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، آزاد میڈیا اور عدلیہ کی آزادی کا تحفظ کیا جائے گا۔ قانون سازی کے بنیادی قانون کی منظوری اور کنیسٹ کے اختیارات و خودمختاری کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ وزیر اعظم کے لیے 2 مدتوں کی حد مقرر کی جائے گی اور غیر ضروری وزارتیں کم کی جائیں گی۔ سرکاری اداروں میں غیر اہل تقرریوں، سیاسی عہدوں اور اقربا پروری کا خاتمہ کیا جائے گا۔
8۔ سماجی تقسیم اور پولرائزیشن میں کمی
اسرائیلی معاشرے میں گہری تقسیم ختم کرنے اور شہریوں و ریاست کے درمیان اعتماد بحال کرنے کے لیے ذمہ دارانہ مکالمے کو فروغ دیا جائے گا۔ یہودی اور جمہوری ریاست کے اصولوں کے مطابق متوازن انتظامات کیے جائیں گے، تاکہ شہری اپنے عقائد اور طرزِ زندگی برقرار رکھتے ہوئے دوسروں کے حقوق کا احترام کر سکیں۔ مقامی حکومتوں اور کمیونٹیز کو زیادہ خودمختاری دی جائے گی۔ پسماندہ علاقوں میں سرمایہ کاری، روزگار کے مراکز اور صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور ثقافتی سہولیات بہتر بنائی جائیں گی۔
9۔ اسرائیلی شہریوں کی نقل مکانی روکنا اور یہودی آبادکاری کو فروغ دینا
اسرائیلی شہریوں کی ملک چھوڑنے کی بڑھتی ہوئی تعداد روکنے کے لیے ہنگامی منصوبہ شروع کیا جائے گا۔ نئے تارکین وطن کو اسرائیلی معاشرے میں ضم کرنے کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔ اگلی دہائی میں 10 لاکھ نئے یہودی تارکین وطن کو اسرائیل میں آباد کرنے اور 2048 تک مزید 10 لاکھ افراد کو ملک میں لانے کی کوشش کی جائے گی۔ بیرون ملک یہودی برادریوں کے ساتھ تعلقات بھی دوبارہ مضبوط کیے جائیں گے۔
10۔ اسرائیل کی صد سالہ سالگرہ کی تیاری
ایک مضبوط اور کثیر شعبہ جاتی قومی منصوبہ بندی اتھارٹی قائم کی جائے گی جو قومی زندگی کے تمام شعبوں میں وژن، حکمت عملی اور طویل مدتی منصوبے تیار کرے گی۔ مقصد یہ ہے کہ 2048 تک اسرائیل کو ایک خوشحال، مثالی ریاست بنایا جائے، جو شراکت داری، بھائی چارے اور باہمی ذمہ داری کی بنیاد پر ترقی کرے۔
اگرچہ الیکشن میں یشار کی جیت بھی حتمی نہیں کیونکہ اسرائیل کے موجودہ اپوزیشن لیڈر یائر لاپید کی یئش عتید پارٹی بھی فیورٹ قرار دی جا رہی ہے۔ تاہم اس منشور سے اتنا اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے کہ نیتن یاہو کے جانے کے بعد بھی اسرائیلی جیو پولیٹیکل پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں ہے۔
