پاکستان نے اردن کے علاقے کرک میں جنازے کے اجتماع پر دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر اردن کی حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
فائرنگ کا واقعہ جمعے کے روز اردن کے دارالحکومت عمان سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب میں واقع کرک کے ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ میں جنازے کی تقریب کے دوران پیش آیا۔ جس میں 7 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے۔ اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے واقعے کے بعد تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کرتے ہوئے حملے کے ذمہ داروں کو ”سخت ترین سزائیں“ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں فائرنگ کے واقعے کو ”گھناؤنا دہشتگرد حملہ“ قرار دیا گیا اور مملکت اردن کی حکومت اور عوام، بالخصوص جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ پاکستان نے حملے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
🔊PR No.3️⃣0️⃣6️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Pakistan Strongly Condemns the Terrorist Attack in Karak, Jordan
🔗⬇️ https://t.co/7hf0vM2CgD
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) October 24, 2026
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا، ’’پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اردن کے برادر عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔‘
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنازے کی تقریب کے دوران حملہ کرنا ”خصوصاً قابلِ مذمت“ فعل ہے۔ انہوں نے ذمہ داروں کی شناخت کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔
علاوہ ازیں لبنان، شام، مصر، عمان اور عراق سمیت مختلف ممالک کی حکومتوں اور مذہبی رہنماؤں نے بھی چرچ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اردن کی حکومت کیساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
خیال رہے کرک میں مسیحی آبادی اقلیت میں ہے، ماضی میں بھی یہ علاقہ عسکریت پسندوں کے حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ 2016 میں مسلح افراد نے علاقے میں متعدد حملے کیے تھے، جن میں سیاحوں میں مقبول ایک صلیبی دور کے قلعے کے قریب ہونے والا حملہ بھی شامل تھا۔ ان واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔


