ترکیہ، پاکستان، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی تعاون بڑھانے اور اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کردیے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ترک وزارت دفاع نے کہا کہ ’بدر مفاہمتی یاد داشت‘ پر بدھ کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دستخط کیے گئے، اس موقع پر چاروں ممالک کے وزرائے دفاع بھی موجود تھے۔ معاہدے کا مقصد چاروں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانا اور دفاعی شعبے میں شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔
دفتر خارجہ نے تاحال اس دفاعی معاہدے پر دستخط کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
Millî Savunma Bakanı Yaşar Güler’in de iştirakiyle Katar’da gerçekleşen Türkiye, Katar, Pakistan ve Endonezya arasındaki Bedir Mutabakat Zaptı imza töreninden görüntüler…
#MillîSavunmaBakanlığı
#YaşarGüler https://t.co/cbU9SDXFu2— T.C. Millî Savunma Bakanlığı (@tcsavunma) October 21, 2026
ترکیہ کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں وزیر دفاع خواجہ آصف بھی موجود تھے، جنہوں نے پاکستان کی جانب سے معاہدے پر دستخط کیے۔
ترک وزارت دفاع نے کہا کہ معاہدے کی معاشی اہمیت بھی نمایاں ہے۔ اس کے تحت فوجی سازوسامان کی تیاری، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے، تکنیکی فوجی تربیت، تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں تعاون کیا جائے گا۔
وزارت دفاع کے مطابق چاروں ممالک اپنی اپنی منفرد دفاعی پیداواری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دفاعی صنعتوں کے درمیان اشتراک اور انضمام کو فروغ دیں گے۔ اس اقدام سے دفاعی صنعتی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا اور اتحادی و دوست ممالک کی دفاعی ضروریات پوری کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
Millî Savunma Bakanı Yaşar Güler’in Katar ziyareti sırasında Türkiye, Katar, Pakistan ve Endonezya arasında Bedir Mutabakat Zaptı imzalandı.
Mutabakat Zaptı’nı Millî Savunma Bakanı Yaşar Güler, Katar Başbakan Yardımcısı ve Savunma İşlerinden Sorumlu Devlet Bakanı Şeyh Saud bin Abdulrahman bin Hasan Al Sani, Endonezya Savunma Bakanı Yardımcısı Yusuf Jauharı ve Pakistan Savunma Bakanı Khawaja Muhammed Asıf tarafından imzalandı.
İmza töreninde Savunma Sanayii Başkanı Haluk Görgün de yer aldı.
#MillîSavunmaBakanlığı
#YaşarGüler— T.C. Millî Savunma Bakanlığı (@tcsavunma) October 21, 2026
واضح رہے کہ ترکیہ کی دفاعی صنعت مضبوط ہے اور اس کے پاس نیٹو کی دوسری بڑی فوج ہے۔ ترکیہ ایران جنگ کے تناظر میں قطر سمیت خلیجی ممالک کی دفاعی صلاحیتیں بڑھانے میں معاونت کر رہا ہے۔ اور قطر میں ترکیہ کا ایک فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔
ترکیہ کے انڈونیشیا کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں، خصوصاً دفاعی صنعت کے شعبے میں دونوں ممالک تعاون کرتے ہیں۔
ترک وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ بدر معاہدے سے چاروں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں گے، سکیورٹی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی اور مشترکہ اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔
اس سے قبل قطر کے وزیر مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمان آل ثانی کا کہنا تھا کہ قطر جلد ہی مقامی دفاعی پیداواری مرکز قائم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کرے گا۔
رواں برس اگست میں پاکستان نے ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور معاہدے میں شامل دیگر ممالک بیرونی جارحیت کے خلاف اس ملک کی مدد کرنے کے پابند ہوں گے۔
اس سے قبل پاکستان اور سعودی عرب نے 17 ستمبر 2025 کو اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کرنے کا عہد کیا گیا۔ اس معاہدے کا مقصد دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا، جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیت اور بازدار قوت میں اضافہ کرنا، اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کو فروغ دینا ہے۔
یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط قریبی تعلقات کا تسلسل ہے، جن کی بنیاد اسلامی یکجہتی، مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور دیرینہ فوجی تعاون پر ہے۔ اس معاہدے کو پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا، جس کے ذریعے بیرونی جارحیت کی صورت میں مشترکہ ردعمل دینے اور سلامتی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے باہمی عزم کو باضابطہ شکل دی گئی۔



