ترکیہ میں تعینات امریکی سفیر اور شام کیلئے خصوصی نمائندے ٹام بارک نے کہا ہے کہ امریکا رواں ہفتے کے آخر میں ایران پر حملہ کر سکتا ہے، صدر ٹرمپ ایران کیساتھ معاہدے اور مذاکرات کیلئے اب بھی تیار ہیں۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور اسرائیل کی جانب سے دھمکیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاری سفارتی تعطل کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے امکان کا عندیہ دیا ہے، تاہم ٹرمپ اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے کانگریس کے انتخابات سے پہلے ایسا نہیں کیا جائے گا۔
ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ٹام بارک کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کئی ماہ سے بات چیت جاری ہے، ایران کی امریکا، اتحادیوں اور خلیجی ممالک کو دھمکیوں کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔
U.S. Ambassador to Türkiye Tom Barrack on Iran:
Could there be a strike this weekend? Absolutely. The president has been clear. I’m giving you American policy.
The president is very clear. He’s open and available and accessible to a deal. And we’ve been at the table for months and months and months.
Source: @MarioNawfal
— Clash Report (@clashreport) October 23, 2026
امریکی سفیر نے کہا کہ امریکی کارروائی کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں ہو گا، امریکی صدر ٹرمپ ایران میں حکومت کی تبدیلی میں دلچسپی نہیں رکھتے، صدر ٹرمپ خطے میں سکیورٹی صورتحال دوبارہ متوازن کرنا چاہتے ہیں۔
ٹام بیرک کے مطابق حکومت تبدیل کرنے کے منصوبوں میں ہمیشہ ایک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد دوسرے دن کیا ہو گا؟۔
واضح رہے دو دن پہلے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بڑے حملے کرنے کے منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس سے قبل امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے منصوبے کا دعویٰ کیا تھا۔
خیال رہے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان نے 8 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے میں مدد دی جبکہ جون میں دونوں ممالک کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر پیشرفت اور مذاکرات کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی میں سوئٹزرلینڈ میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات بھی ہوئے، جن میں جوہری پروگرام، پابندیوں اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت جیسے معاملات پر بات چیت کے لیے طریقہ کار طے کیا گیا۔ تاہم بعد میں جنگ بندی کا عمل متاثر ہوا اور دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔



