سعودی عرب کے شہر دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئر پورٹ اور شیبہ آئل فیلڈ پر حملوں میں 3 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہو گئے، حملوں میں اضافے کے بعد امریکا نے سعودی عرب میں تعینات امریکی حکومت کے غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہلخانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دے دیا۔
امریکا نے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد خطے میں اپنے بعض سفارتی اہلکاروں کو واپس بلا لیا تھا۔ بعد ازاں حالیہ مہینوں میں کچھ اہلکاروں کو دوبارہ تعینات کیا گیا۔ اب سعودی عرب میں حملوں میں اضافے کے بعد سفارتی عملے اور ان کے اہلخانہ کی واپسی کا نیا حکم سامنے آیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں ایک شخص جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے جبکہ شیبہ آئل فیلڈ میں سعودی آرامکو کی ایک تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے ڈرون کو سعودی فضائی دفاعی نظام کی جانب سے روکنے کے بعد پیش آنے والے واقعے میں دو افراد جاں بحق ہو گئے۔
سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق فہد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر حملے سے ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
#بيان بشأن استهداف مطار الملك فهد الدولي بالدمام.
#الطيران_المدني https://t.co/kJdjG8xGoE
— هيئة الطيران المدني (@ksagaca) October 21, 2026
رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات اور حملوں میں اضافے کے پیش نظر اپنے سفارتی مشنز سے غیر ہنگامی امور پر مامور سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے، جبکہ خلیجی خطے کی دیگر ریاستوں میں قائم امریکی سفارتی مشنز سے بھی عملے کے اہلخانہ کو واپس بلانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ سعودی عرب میں صرف غیر ہنگامی امور پر مامور امریکی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلخانہ کو روانگی کا حکم دیا گیا ہے۔
This is inaccurate. The U.S. Department of State issued an ordered departure for non-emergency U.S. government employees and their family members in Saudi Arabia only.
Iranian-supported Houthis have increasingly engaged in hostilities against Saudi Arabia, including attacks on civilian airports and other critical infrastructure resulting in civilian casualties and severe travel disruptions.
The safety and security of Department personnel and their families remain our highest priority, and we will continue to take all necessary steps to protect and support them.
— Tommy Pigott (@statedeptspox) October 21, 2026
ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں شہری اہداف اور اہم تنصیبات پر حملوں میں اضافے کے باعث یہ اقدام کیا گیا۔ حوثیوں کی کارروائیوں میں شہری ہوائی اڈوں اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں کے علاوہ فضائی سفر میں بھی شدید خلل پڑ رہا ہے۔
رائٹرز سے گفتگو کرنے والے چار امریکی حکام کے مطابق خلیجی خطے کے دیگر ممالک میں قائم امریکی سفارتی مشنز سے بھی اہلِ خانہ کو واپس جانے کے احکامات جاری کیے جائیں گے۔ تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے سعودی عرب کے علاوہ دیگر ممالک میں سفارتی عملے کی واپسی سے متعلق کسی فیصلے کی تصدیق نہیں کی۔
ادھر ریاض میں امریکی سفارتخانے نے سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے سعودی عرب پر حوثیوں کے مزید ممکنہ حملوں سے خبردار کیا ہے۔ یہ انتباہ حالیہ مہلک حملوں کے بعد جاری کیا گیا، جن میں ریاض کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کا واقعہ بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال مارچ کے اوائل میں ریاض میں امریکی سفارتخانے اور وہاں قائم امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے اسٹیشن کو بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ حملے اس وقت ہوئے جب ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔
خیال رہے یمن کی لڑائی میں حالیہ شدت کی وجہ سے خطے میں جاری تنازع میں ایک نیا محاذ کھل گیا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں عالمی توانائی کی تجارت متاثر ہوئی ہے، جبکہ خلیجی ممالک کی معیشتوں کو بھی دباؤ کا سامنا ہے۔



