ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں 7 بحری جہازوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے شمالی خلیج فارس میں تیل کی غیر قانونی ترسیل میں ملوث 4 جہازوں کو نگرانی کے بعد بیک وقت نشانہ بنایا۔
ایران امریکا جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور خلیج عمان میں بحری جہازوں پر حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اب تک امریکی پرچم بردار جہاز سمیت 10 سے زیادہ جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حملوں کے نتیجے میں تیل بردار ٹینکرز، کنٹینر جہازوں اور بلک کیریئرز کو نقصان پہنچا ہے، بعض جہازوں میں آگ لگی جبکہ کچھ ڈوب گئے۔
رائٹرز کے مطابق پاسداران انقلاب نے مزید 3 جہازوں کے آبنائے ہرمز کے مغرب میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کا بھی دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد جہازوں میں آگ لگ گئی۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے مبینہ اشتعال انگیزی جاری رہی تو خطے میں امریکی اڈوں کے خلاف وسیع تر کارروائی کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے نائب برائے سیاسی امور بریگیڈیئر جنرل یداللہ جوانی نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج دشمن کی کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
Iran armed forces fully prepared to crush any aggression: IRGC deputy
https://t.co/FvQbKqloRb https://t.co/5EaQqpKz7L
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) October 21, 2026
ال عالم ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کا مناسب جواب دے گا، یہ ردعمل ماضی کے مقابلے میں زیادہ سخت ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ کے آغاز میں اپنی تمام فوجی صلاحیتیں استعمال نہیں کی تھیں۔ امریکا نے یہ سمجھ کر اسٹریٹجک غلطی کی کہ وہ چند روز میں ایرانی مسلح افواج کو شکست دے سکتا ہے، تاہم جنگ کے دوران زمینی حقائق نے ان اندازوں کو غلط ثابت کیا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت اس راستے سے ہوتی تھی۔ ایران نے جنگ کے دوران اس گزرگاہ پر کنٹرول بڑھانے، جہازوں کی آمدورفت محدود کرنے اور بعض جہازوں کے لیے اجازت یا مخصوص راستوں کی شرط عائد کی ہے۔
جہازوں پر حملوں کے حوالے سے ایران کا مؤقف ہے کہ اس نے بعض جہازوں کو اپنی مقرر کردہ بحری پابندیوں کی خلاف ورزی پر نشانہ بنایا۔



