امریکا نے ایران کے خلاف پابندیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے یونان اور پاناما میں قائم قانونی فرم ’کارناکیس اینڈ کارناکیس‘ پر پابندیاں عائد کردیں۔
امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ رواں ماہ امریکا نے ایران پر حملے کرنے سے گریز کیا تاہم ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھی اور ایرانی جہاز رانی کے نیٹ ورکس اور ان کی معاونت کرنے والوں کے خلاف پابندیوں کے متعدد اعلانات کیے۔
تازہ کارروائی کے ذریعے واشنگٹن نے ایرانی تیل کی تجارت سے منسلک مبینہ معاون نیٹ ورکس کے ساتھ قانونی خدمات فراہم کرنے والے اداروں اور مالیاتی شعبے سے وابستہ اداروں کو بھی پابندیوں میں شامل کرلیا ہے ۔
امریکی محکمہ خزانہ کے بیان کے مطابق، فنانشل کرائمز انفورسمنٹ نیٹ ورک (فِن سین) نے ایران سے ممکنہ روابط کے معاملے پر ایک یونانی بینک کیخلاف تحقیقات آگے بڑھانے کے لیے انتظامی سمن بھی جاری کیا ہے تاہم بینک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔
فِن سین نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے مالیاتی اداروں سے تعلقات کے معاملے پر مزید 6 یورپی بینکوں سے بھی معلومات طلب کی ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ چاہے کوئی سمندر میں غیرقانونی طور پر تیل کی منتقلی میں ملوث ہو یا کسی قانونی فرم کے اعلیٰ عہدے پر بیٹھا ہو اگر وہ ایرانی حکومت کی معاونت کررہا ہے تو امریکا اسے تلاش کرکے پابندیوں کا نشانہ بنائے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پگوٹ نے الزام عائد کیا کہ کارناکیس اینڈ کارناکیس کئی برس سے ایسی فرضی کمپنیاں قائم کرتی رہی ہے جن کے ذریعے ایرانی تیل، پیٹروکیمیکلز اور اسٹیل لے جانے والے جہازوں کے اصل مالکان کی شناخت چھپائی جاتی تھی۔
ان کے مطابق قانونی فرم نے ایسی کمپنیاں بھی قائم کیں جو ان نیٹ ورکس کے لیے پس پردہ کام کرتی تھیں، جن کے ذریعے ایرانی تیل کے لاکھوں بیرل فروخت کیے جاتے تھے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس سرگرمی سے اسلامی انقلابی گارڈز کی قدس فورس اور حوثیوں کو فائدہ پہنچتا تھا۔
رائٹرز نے اس حوالے سے کارناکیس اینڈ کارناکیس سے موقف کیلئے رابطہ کیا لیکن درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں ملا۔
امریکی محکمہ خزانہ نے سنگاپور اور متحدہ عرب امارات میں قائم شپنگ ایجنٹس پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ایجنٹس ایرانی خفیہ بحری بیڑے کی سرگرمیوں میں براہِ راست معاونت کررہے تھے۔
یہ اقدامات ایران کے خلاف امریکی دباؤ کی مہم کا حصہ ہیں جس میں ایرانی جہاز رانی کے نیٹ ورکس اور ان کی معاونت کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔



