حنا جاوید قتل کیس میں شریک ملزم قرار دیئے گئے گھریلو ملازم ذیشان ارشد کے اہل خانہ نے اپنے بیٹے کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اسے مقدمے میں پھنسا رہی ہے اور تشدد کے ذریعے اعتراف جرم پر مجبور کیا گیا ہے۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ذیشان ارشد کے والد محمد ارشد نے دعویٰ کیا کہ قتل کا پورا مقدمہ ان کے بیٹے پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو تقریباً 7 ماہ سے مقتولہ کے گھر ملازمت کر رہا تھا۔
والد محمد ارشد نے کہا کہ انہوں نے گرفتاری کے بعد جیل میں ذیشان سے دو مرتبہ ملاقات کی، جہاں بیٹے نے انہیں بتایا کہ حنا جاوید اس کے لیے ماں جیسی حیثیت رکھتی تھیں۔
ذیشان کے والد نے اپنے بیٹے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ 20 اگست کی رات حنا جاوید اور ان کے شوہر فیصل اصغر امام کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔ شور سن کر ذیشان کی آنکھ کھلی تو اس نے مبینہ طور پر حنا جاوید کو بھاگتے اور فیصل کو ان کا پیچھا کرتے دیکھا۔
انہوں نے کہا کہ فیصل اصغر امام نے ذیشان کو حنا جاوید کو پکڑنے کا حکم دیا، تاہم اس نے میاں بیوی کے معاملے میں مداخلت سے انکار کردیا تھا۔ فیصل نے ذیشان کو تشدد کا نشانہ بنایا اور مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر حنا کو پکڑنے پر مجبور کیا۔
ذیشان کے والد نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کے بیٹے نے فیصل اصغر امام پر حنا جاوید کو قتل کرنے اور بعد ازاں باتھ روم میں لٹکانے کا الزام عائد کیا ہے۔
محمد ارشد نے الزام لگایا کہ پولیس نے جسمانی ریمانڈ کے دوران ذیشان پر تشدد کیا اور اسے اعتراف جرم کے لیے دباؤ میں رکھا۔ اہل خانہ کو واقعے کے 11 روز بعد حنا جاوید کی موت کے بارے میں بتایا گیا، جبکہ پولیس یا ذیشان کے مالکان نے اس سے قبل خاندان سے رابطہ نہیں کیا تھا۔
انہوں نے ان اطلاعات کو بھی مسترد کیا کہ ذیشان کا پہلے سے کوئی مجرمانہ ریکارڈ تھا۔ ان کے بیٹے کی عمر تقریباً 18 سے 19 سال ہے اور ان کے آبائی علاقے میان گوندل، تحصیل ملکوال، ضلع منڈی بہاؤالدین میں نہ اس کے خلاف اور نہ ہی خاندان کے خلاف کوئی مقدمہ یا شکایت درج ہے۔
ذیشان کے ماموں نے بھی کہا کہ خاندان نے اسے روزگار کے لیے بھیجا تھا اور انہیں معلوم نہیں کہ حنا جاوید اور ان کے شوہر کے درمیان جھگڑے کی اصل وجہ کیا تھی۔
حنا جاوید کے اہل خانہ کا بھی پولیس تفتیش پر عدم اعتماد
دوسری جانب حنا جاوید کے اہل خانہ نے بھی پنجاب پولیس کی تحقیقات مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ تفتیشی حکام نے ڈی این اے شواہد کو نظرانداز کیا اور مقدمے میں نامزد بعض افراد کو تحفظ فراہم کیا ہے۔
نیشنل پریس کلب میں ہفتے کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے حنا جاوید کے بھائی اور مقدمے کے مدعی فہد جاوید نے عدالتی کمیشن فوری تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ خاندان کا پولیس اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی پر اعتماد ختم ہوچکا ہے۔
فہد جاوید نے دعویٰ کیا کہ حنا جاوید کے شوہر فیصل اصغر امام کا ڈی این اے مقتولہ کی گردن، بیڈ شیٹ اور دروازے کے تالے سمیت چار مقامات سے ملا ہے۔ جبکہ ڈی این اے شواہد سامنے آنے کے باوجود فیصل کا نام چالان میں شامل کیوں نہیں کیا گیا۔
حنا جاوید کے بھائی نے اپنے سسر کا ڈی این اے بھی مقتولہ کی گردن سے ملنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ان سے مزید تفتیش نہ کیے جانے پر سوالات اٹھائے۔
حنا جاوید قتل کیس میں ہونے والی پیشرفت
دو دن قبل اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی نے تفتیش مکمل کر کے مرکزی ملزم کا تعین کر دیا ہے، تحقیقاتی کمیٹی نے حنا جاوید قتل کیس میں نامزد ملزم گھریلو ملازم ذیشان کو مرکزی ملزم قرار دے دیا تھا، اور کہا تھا کہ ملزم ذیشان کی جلد کے ذرات مقتولہ کے ہاتھوں کی انگلیوں کے ناخن میں پائے گئے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے انکشاف کیا کہ ملزم ذیشان دیگر سنگین مقدمات میں ریکارڈ یافتہ بھی ہے، اس نے مقتولہ سے جنسی زیادتی کی اور بیڈ کی چادر سے گلا دبا کر قتل کرنے کا اعتراف کیا، کسی کے دباؤ سے کسی بے گناہ کو مرکزی ملزم نہیں ٹھہرا سکتے۔
حنا جاوید کا قتل 20 اگست 2026 کی صبح راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں پیش آیا تھا۔ 45 سالہ حنا جاوید کی لاش ان کے گھر کے باتھ روم سے برآمد ہوئی تھی، جن کے ہاتھ پیچھے بندھے تھے، منہ پر کپڑا اور گلے میں بجلی کی تار بندھی ہوئی تھی۔ مقتولہ کے بھائی فہد جاوید کی مدعیت میں مقدمہ تھانہ سول لائنز راولپنڈی میں درج ہے۔



