وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے معروف ایچ نائن اتوار بازار کی بندش کے خلاف دکانداروں نے احتجاج کرتے ہوئے بازار فوری کھولنے کا مطالبہ کردیا۔
سیکٹروں تاجروں نے آج ایچ نائن اتوار بازار کے باہر دھرنا دیا اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے خلاف نعرے لگائے۔
مظاہرین نے سوال اٹھایا کہ حفاظتی انتظامات میں خامیوں کو دور کرنے کے بجائے پورے بازار کو بند کیوں کیا گیا ہے۔ تاجروں کے مطابق بازار کی بندش سے ان کی آمدنی رک گئی ہے اور انہیں مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کے ڈائریکٹوریٹ آف میونسپل ایڈمنسٹریشن (ڈی ایم اے) نے فائر سیفٹی اقدامات کرنے تک 16 اکتوبر2026 سے ایچ نائن اور جی سکس کے ہفتہ وار بازار بند رکھنے کا حکم دیا تھا۔
اسلام آباد کے سنڈے بازاروں کی بندش کے خلاف ایچ نائن بازار کے اسٹال ہولڈرز سراپا احتجاج، سی ڈی اے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ فائر سیفٹی یقینی بنائی جائے، مگر پورا بازار بند کرکے ہزاروں افراد کا روزگار ختم کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ https://t.co/oNJxNfUMHU
— Abdul Rauf Bazmi (@RaufBazmi) October 18, 2026
جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ جب تک آگ سے بچاؤ کے مناسب انتظامات مکمل نہیں کرلیے جاتے اور سی ڈی اے کی ایمرجنسی سروسز کی جانب سے کلیئرنس نہیں مل جاتی، بازار بند رہیں گے۔
تاجروں کا فائر سیفٹی انتظامات مکمل کرنے کا دعویٰ
دوسری طرف تاجروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ سے بچاؤ اور دیگر حفاظتی اقدامات پر رقم خرچ کی ہے۔ ان کے مطابق بازار میں تقریباً 17 سو آگ بجھانے والے آلات نصب کیے گئے ہیں جبکہ فائر سیفٹی ٹرالیاں اور سگریٹ نوشی سے منع کرنے والے بورڈز بھی لگائے گئے ہیں۔
دکانداروں نے دعویٰ کیا کہ 30 سکیورٹی کیمرے نصب کیے جاچکے ہیں اور تقریباً 500 اسٹالز پر میش شٹر گیٹس بھی لگائے گئے ہیں، جبکہ باقی اسٹالز پر کام جاری ہے۔
تاہم ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ پہلے سے کیے گئے اقدامات کا معائنہ کیا جائے اور باقی خامیوں کی نشاندہی کرکے انہیں دور کرنے کا موقع دیا جائے۔
ایچ نائن بازار میں بار بار آتشزدگی کے واقعات
بازار کی بندش سے قبل رواں سال جون میں ایچ نائن ہفتہ وار بازار کے بلاک سی میں بڑی آتشزدگی ہوئی تھی جہاں زیادہ تر کپڑوں اور جوتوں کے اسٹالز تھے۔ آگ سے مجموعی طور پر سیکڑوں اسٹالز متاثر ہوئے تھے اور تاجروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
یہ 2017 کے بعد بازار میں آتشزدگی کا پانچواں واقعہ بتایا گیا تھا۔ واقعے کے بعد آگ سے بچاؤ، بجلی کی حفاظت اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے انتظامات پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔
ایچ نائن اور جی سکس کے ہفتہ وار بازار اسلام آباد کے ان مقامات میں شامل ہیں جہاں شہری نسبتاً کم قیمت پر سبزیاں، اشیائے خورونوش، کپڑے اور گھریلو سامان خریدتے ہیں۔
بازاروں کی بندش سے تاجروں کا کاروبار متاثر ہوا ہے جبکہ ان بازاروں سے خریداری کرنے والے شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔


