وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ معیاری تعلیم اورمساوی مواقع کی فراہمی ضروری ہے، غریب خاندانوں کے بچوں کو بھی اشرافیہ کے برابرتعلیمی مواقع ملنے چاہئیں، آج وزیر اعظم نہیں بلکہ حقیقی خادم کی حیثیت سے آپ کے سامنے ہوں۔
دانش اسکول اسلام آباد کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے باصلاحیت نوجوانوں کی ترقی میں بڑی رکاوٹ مالی وسائل کی ہے۔غریب خاندانوں کے ذہین بچے اعلیٰ تعلیمی اداروں تک رسائی کا تصور بھی نہیں کرسکتے ۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دانش اسکولز پردستاویزی فلموں اور طلبہ کے تاثرات و کامیابیوں نے دل چھو لیے، ان کی کامیابیاں انتہائی متاثر کن ہیں، خیبرپختونخوا کی باصلاحیت بچی کی جدوجہد کامیابی اورحوصلے کی مثال ہے، اس نے امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑا ۔
خصوصی صلاحیتوں کی حامل بچی کی داستان کو غیر متزلزل عزم کی کہانی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ عظیم پاکستانی، محنتی، باوقار اور علم دوست باپ کی بیٹی ہے، غریب والد کے پاس بیٹی کی تعلیم کیلئے مالی وسائل نہیں تھے،محنت کش والدین شدید گرمی اور سردی میں حلال روزی کماتے ہیں، محدود آمدن کے باعث والدین بچوں کی تعلیم اور صحت کےاخراجات پورے نہیں کرپاتے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے مزید کہا کہ ہمارے نوجوان غیر معمولی ذہانت، جذبے اور زندگی سے بھرپور ہیں،نوجوان اپنی ذہانت اورمحنت سے پاکستان کوعالمی سطح پر نمایاں مقام دلا سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مالی مشکلات کےباعث کوئی ذہین بچہ معیاری تعلیم سےمحروم نہیں رہنا چاہیے، غریبوں کے بچے ایچی سن جیسےاداروں میں تعلیم کا تصوربھی نہیں کرسکتے،اسی وژن کے تحت 2010 میں دانش اسکولز کی بنیاد رکھی، جس کا امقصد بچوں کومعیاری تعلیم کےیکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔
وزیر اعظم کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ دوردراز علاقوں، آزادکشمیراورگلگت بلتستان کےذہین بچوں کومعیاری تعلیم دینی ہے، بہاولپور کی ہونہار بچی نے عزم اور ہمت سے تعلیم حاصل کی اور آج ڈاکٹر بن کرانسانیت کی خدمت کررہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا عزم ہے کہ دانش اسکولزمعروف تعلیمی اداروں سے بھی بہترثابت ہوں، انصاف، میرٹ اورمساوی مواقع پرمبنی معاشرہ قیام پاکستان کی اساس ہے،ہمارے آباؤ اجداد نےخوشحال پاکستان کیلئے 1947میں ہجرت کی ہمیں محاسبہ کرنا ہوگا کہ ہم بزرگوں کے خواب کی تعبیر کے کتنے قریب ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دانش اسکولزکے طلبہ کی کامیابیاں دوسروں کیلئےمثال ہیں، مواقع ملنے پرمحروم طبقات کےبچے بھی آگے بڑھ سکتے ہیں۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ دانش اسکولز کا دائرہ پنجاب سے نکل کرپورے پاکستان میں علم کی روشنی پھیلا رہا ہے جہاں جدید آئی ٹی اورمصنوعی ذہانت کی لیبارٹریز بھی قائم کی جائیں گی۔اس وقت ملک کے مختلف علاقوں میں دانش اسکولز زیر تعمیر ہیں۔
قبل ازیں وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک تاریخی دن ہے،تعلیم سے دانش کشید کرنے کیلئے دانش اسکول جیسے اداروں کی ضرورت تھی،وژن کا مقصد مستقبل کی نسلوں کی تعلیم وتدریس کا انتظام کرنا تھا۔
خالد مقبول صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ دانش کا یہ سفر فکر،جستجو ،تحقیق اور ترقی کا سفر ہے ،امید ہےآئندہ نسلیں اس پہلے قدم کو منزل تک پہنچانے کا ذریعہ سمجھیں گی۔
اس موقع پر وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دنیا شہبازشریف کوسیاستدان اورخادم پنجاب وپاکستان کےطورپرجانتی ہے وہ بہترین اصلاحات کرنے والے رہنما ہیں،انہوں نے بچوں کیلئے اسکالرشپس اورپنجاب دانش اتھارٹی کی بنیاد رکھی جو اب پاکستان دانش اتھارٹی کے طور پر کام کر رہی ہے۔
’بچوں کی کہانیاں سن کر وزیراعظم سمیت شرکا آبدیدہ ہوگئے‘
دانش اسکول اسلام آباد کی طالبہ ایمن علی گل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بابا کہتے تھے بیٹا کچھ کرکے اورکچھ بن کر دکھانا ہے مگر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے دلبرداشتہ ہوجاتی تھی۔
دانش اسکول میں داخلہ ملنے پر بابا کےچہرے پر خوشی تھی،اسکول دیکھ کر لگا کہ بابا کے خواب کی تعبیر مل گئی، آج اتنے بڑے اسٹیج پر پہنچ کر خوشی کی انتہا نہیں۔
انہوں نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تقریب میں موجود تمام بچے بلاتفریق پاکستانی ہیں۔
دانش اسکول اسلام آباد کے ایک اور طالبعلم زاہد گل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہاں داخلہ ملنے پر بہت خوشی ہے، معیاری تعلیم کے ساتھ سائنس لیبارٹریز اور کھیلوں کی سہولتیں بھی میسر ہیں ۔
زاہد گل نے اپنے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کرم ایجنسی کے نجی اسکول کی فیس ادا کرنا مشکل تھا، میرے والد بزرگ ہیں اورآمدن کا کوئی ذریعہ نہیں، میرا بھائی لوگوں کی بھیڑ بکریاں چراتا ہے۔ اتوار کو کباڑ بیچ کر میں اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرتا تھا، بچوں کی کہانیاں سن کر وزیراعظم سمیت شرکا آبدیدہ ہوگئے۔اس موقع پر شہبازشریف نے طالبعلم زاہد گل کو گلے لگا کر حوصلہ دیا۔
’دانش اسکول اسلام آباد میں کیا کیا سہولیات مہیا ہیں؟‘
افتتاحی تقریب میں وزیراعظم کو دانش اسکول اسلام آباد کے حوالے سے بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ یہ اسکول 30ایکڑ رقبے پر تعمیر کیا گیا ہے جہاں کلاسز ششم ،ہفتم اور ہشتم سے شروع کی گئی ہیں۔ ہرکلاس میں 120بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ مختلف علاقوں سے360 ہونہار بچے، بچیوں کوسو فیصد میرٹ کی بنیاد پر داخل کیا گیا ہے، فی الحال 38 اساتذہ کو بھرتی کیا گیا ہے، ضرورت کے مطابق تدریسی اسٹاف میں اضافہ کیا جائےگا۔
اسکول میں لڑکوں اور لڑکیوں کے اکیڈمک بلاکس الگ الگ ہیں، ہربلاک میں 24کلاس رومز، آئی ٹی، سائنس، ربوٹکس لیبز قائم کی گئی ہیں،ای لائبریری اور آرٹ روم بھی قائم کیے گئے ہیں۔


