امریکی ریاست وسکونسن میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ ہونے کے نتیجے میں ایک بچے سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے۔
امریکی میڈیا کے مطابق حادثہ منگل کی شب 13 اکتوبر کو ساؤک کاؤنٹی کے علاقے ڈی لونا میں پیش آیا۔ امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز اور مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ساؤک کاؤنٹی ڈسپیچ سینٹر کو رات تقریباً 9 بج کر 31 منٹ پر طیارہ گرنے کی متعدد اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد پولیس اور امدادی اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے۔
حکام کے مطابق حادثے کا شکار طیارہ پائپر پی اے 46 (Piper PA-46) تھا، جو کینوشا سے مینومونی کی جانب واپسی کے سفر پر تھا، طیارے میں پانچ بالغ افراد اور ایک بچہ سوار تھے، امدادی اہلکاروں کو جائے حادثہ پر تمام چھ افراد مردہ حالت میں ملے۔
گھنے جنگلاتی علاقے میں طیارے کا ملبہ ملا
امریکی میڈیا کے مطابق طیارے کا ملبہ ڈی لونا کے علاقے میں پارک لین کے شمال اور ہیروِگ روڈ کے مغرب میں واقع گھنے جنگلاتی علاقے سے ملا۔ حکام کے مطابق حادثے کے نتیجے میں زمین پر موجود کسی شخص کے زخمی ہونے یا عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں ملی۔
ساؤک کاؤنٹی حکام کے مطابق، حادثے سے قبل طیارہ قریبی ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور سے رابطے میں تھا، تفتیش کار ان پیغامات اور رابطوں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ حادثے سے قبل کیا ہوا تھا۔
موسم بھی تحقیقات کا حصہ
امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) اور نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (این ٹی ایس بی) نے حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں، حکام یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا علاقے میں موسم کی خرابی کا حادثے میں کوئی کردار ہے۔
Six people are dead following a plane crash Tuesday night in Reedsburg, Wisconsin, Tuesday night, according to a statement from the Sauk County Sheriff’s Office. https://t.co/YNMvGNInPa
— ABC News (@ABC) October 14, 2026
تاحال ہلاک ہونے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی حادثے کی حتمی وجہ سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی حادثے کے اسباب سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آ سکیں گی۔
پائپر پی اے 46 طیارے کی تاریخ، مختلف ماڈلز اور انجنوں میں تبدیلیاں
امریکی کمپنی پائپر ایئرکرافٹ نے 1983 میں مالِیبو (Malibu) طیارے کو 310 ہارس پاور کے کانٹی نینٹل انجن کے ساتھ سرٹیفائی کیا، جس کے بعد کمپنی نے اس ماڈل کے 400 سے زائد طیارے فراہم کیے۔
1998 میں کمپنی نے اس طیارے میں 350 ہارس پاور کا لائکومنگ انجن متعارف کرایا اور اس کا نام تبدیل کرکے مالِیبو میراج (Malibu Mirage) رکھ دیا۔
2000 میں پائپر نے پی اے 46 سیریز کا ٹربوپراپ ورژن متعارف کرایا، جسے میریڈیئن (Meridian) کا نام دیا گیا۔ اس میں 500 ہارس پاور کا پراٹ اینڈ وٹنی پی ٹی 6 اے 42 انجن نصب کیا گیا جبکہ کمپنی نے پسٹن انجن والے ماڈلز کی تیاری بھی جاری رکھی۔ ان میں میٹرکس (Matrix) بھی شامل تھا، جس کا کیبن پریشرائزڈ نہیں تھا۔
2015 میں کمپنی نے ایم 600 (M600) متعارف کرایا جو 600 ہارس پاور کے ٹربوپراپ انجن سے لیس تھا۔ بعد ازاں 2024 میں ایم 700 فیوری (M700 Fury) پیش کیا گیا، جس کی انجن طاقت 700 ہارس پاور اور زیادہ سے زیادہ رفتار 300 ناٹس سے زیادہ بتائی گئی۔
وقت کے ساتھ پی اے 46 سیریز کے طیاروں کے ڈھانچے اور پرواز کے الیکٹرانک نظام میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں تاکہ زیادہ طاقتور انجنوں، تیز رفتار پرواز اور زیادہ ایندھن لے جانے کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔



