متحدہ عرب امارات کے پراسکیوٹر جنرل ڈاکٹر حمد الشمسی نے کہا ہے کہ فلائی دبئی کے معاون پائلٹ نے طیارے کا کنٹرول حاصل کرکے اسے گوریون ائیرپورٹ سے ٹکرانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
متحدہ عرب امارات کے پراسیکیوٹرز نے الزام عائد کیا ہے کہ فلائی دبئی کے ایک معاون پائلٹ نے مسافر طیارے کا کنٹرول حاصل کرکے اسے تل ابیب کے بین گوریون ایئرپورٹ سے ٹکرانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
غیرملکی خبررساں دی نیشنل نیوز کی رپورٹ کے مطابق اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مبینہ کارروائی خودکشی پر مبنی دہشت گرد حملے کی سازش تھی، 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 سے متعلق تحقیقات میں مبینہ سازش کا انکشاف ہوا۔
واضح رہے کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کو 30 ستمبر کو پائلٹس کے درمیان پیش آنے والے جھگڑے کے بعد سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی تھی۔
رپورٹس کے مطابق واقعے کے دوران معاون پائلٹ پر کپتان پر چاقو سے حملہ کرنے اور طیارے کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
بعد ازاں متحدہ عرب امارات کے پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا کہ 29 سالہ عمانی معاون پائلٹ نے طیارے کو تل ابیب کے بن گوریون ایئرپورٹ سے ٹکرانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
View this post on Instagram
حکام کے مطابق مشتبہ شخص نے اپنے اعترافی بیان میں 11 ستمبر 2001 کے امریکا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں سے متاثر ہونے کا ذکر کیا تاہم مبینہ سازش کے تمام پہلوؤں، ممکنہ ساتھیوں اور واقعے کے حالات سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد الشمسی نے جمعہ کو بتایا کہ طیارے کا 29 سالہ عمانی معاون پائلٹ مبینہ طور پر زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا چاہتا تھا۔
پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص نے مبینہ منصوبے میں اکیلے کام کرنے کا اعتراف کیا ہے تاہم ممکنہ ساتھیوں اور سازش کے دیگر حالات سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کے مطابق مبینہ منصوبے کا مقصد مسافر طیارے کو تباہ کرکے بڑے پیمانے پر جانی نقصان پہنچانا تھا تاہم دستیاب معلومات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ معاون پائلٹ نے طیارے کا کنٹرول حاصل کرنے کی عملی کوشش کی تھی یا سازش کس مرحلے پر ناکام بنائی گئی۔
واقعے سے متعلق مزید تفصیلات اور تحقیقات کے حتمی نتائج سامنے آنا باقی ہیں۔ مشتبہ شخص کے خلاف الزامات اور اعتراف سے متعلق معلومات اماراتی حکام کے بیان پر مبنی ہیں۔



