امریکا نے برطانوی فوجی اڈے پر حملے کے خدشے کے پیش نظر برطانیہ کے فیئرفورڈ ائیربیس سے بی ون بمبار طیارے واپس بلا کر اپنے اڈوں پر منتقل کر دیئے۔
یہ پیشرفت ائیربیس پر حملوں کی منصوبہ بندی کے شبے میں 5 افراد کی گرفتاری کے بعد سامنے آئی ہے۔ 27 ستمبر کو پولیس کو گلوچسٹر شائر میں واقع ایئربیس کے قریب تین ’’مشکوک گاڑیوں‘‘ کی اطلاع دی گئی تھی۔ جس کے بعد پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ جو لندن کے رہائشی اور برطانوی شہری تھے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے امریکی محکمہ دفاع کے اعلیٰ عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ آپریشنل سکیورٹی کے باعث اثاثوں اور فوجی دستوں کی نقل و حرکت کی بروقت تصدیق ممکن نہیں تھی، تاہم اب اس بات کی تصدیق کی جا سکتی ہے کہ آر اے ایف فیئرفورڈ پر تعینات تمام امریکی بمبار طیارے امریکا میں اپنے اڈوں پر واپس پہنچ چکے ہیں۔
بی ون، بی ٹو اور بی 52 طیاروں کی صلاحیت
عہدیدار نے مزید کہا کہ امریکی بمبار طیاروں کے آپریشنز انجام دینے والے فضائی اہلکار جن میں بی ون، بی ٹو اور بی 52 طیارے شامل ہیں، دنیا بھر میں کہیں بھی اور کسی بھی وقت درست اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کے ساتھ تیار ہیں۔ جن میں امریکی سرزمین سے پرواز کرکے مشن مکمل کرنے اور واپس آنے کی صلاحیت بھی شامل ہے۔
دوسری جانب برطانوی ائیربیس کے قریب سے گرفتار کیے گئے پانچوں افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے، بعد ازاں ایک چھٹے شخص، جو برطانوی نژاد ایرانی شہری ہے، کو بھی گرفتار کیا گیا، انہیں بھی بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
گرفتار افراد کی گاڑیوں سے کیا ملا؟
برطانوی تفتیش کاروں کو ملزمان کی وینز سے صرف پٹرول ملا تھا، کوئی دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔ تاہم برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
واقعے کے چند روز بعد برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہمنے کہا تھا کہ اس واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کے ’’مضبوط اشارے‘‘ موجود ہیں، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ دوسری جانب ایران نے مبینہ حملے کی منصوبہ بندی میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
آر اے ایف فیئرفورڈ ایئربیس کئی دہائیوں سے امریکی فضائیہ کے لیے فارورڈ آپریٹنگ بیس کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔
فیئرفورڈ ایئربیس کس کیخلاف استعمال ہوتا رہا؟
واضح رہے کہ لندن کے شمال مغرب میں واقع فیئرفورڈ ائیربیس پر ایک درجن B-1 بمبار طیارے تعینات تھے جنہیں ایران پر امریکی حملوں میں استعمال کیا گیا تھا۔ برطانیہ نے ایران کے خلاف دفاعی کارروائیوں کے لیے اس اڈے کو استعمال کرنے کی امریکی درخواست کی منظوری دی تھی۔
جولائی میں ایران نے خبردار کیا تھا کہ ایرانی سرزمین کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال ہونے والا کوئی بھی فوجی اڈہ ایرانی افواج کے لیے جائز ہدف تصور ہو گا۔



