ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف معاشی جنگ سب سے بڑا محاذ ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پابندیوں اور جنگ کے اثرات سے عوام کے روزگار اور معاش کو محفوظ رکھنا اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے فیصلوں میں اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ پابندیوں اور جنگ کے اثرات عوام کے روزگار اور معاش کو سب سے آخر میں متاثر کریں۔
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کے خلاف اقتصادی جنگ سب سے اہم محاذ ہے، جو فوجی، سائبر اور نفسیاتی جنگ سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ فیصلہ سازی میں عوام کے معاش اور مسلح افواج کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے، جبکہ حکومتی اقدامات کا بنیادی مقصد پابندیوں اور جنگ کے منفی اثرات سے عوام کو محفوظ رکھنا ہونا چاہیے۔
Iran’s decisions should protect people’s livelihoods from the effects of sanctions and war, Parliament Speaker Mohammad Bagher Ghalibaf said on Tuesday.
“Our decisions must ensure that people’s livelihoods are the last to be affected by sanctions and war,” he said.
Ghalibaf called economic warfare the main front against Iran and said it was more important than military, cyber and psychological warfare. He said people’s livelihoods and the armed forces were the top priorities in decision-making.
— Iran International English (@IranIntl_En) October 13, 2026
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں یقین نہیں کہ چین اور روس ایران کی کسی بھی طرح مدد کر رہے ہیں۔ ماسکو اور بیجنگ کے پاس ایران کی مدد کرنے کی صورت میں کھونے کے لیے بہت کچھ ہے اور امریکا کو اس کا فوری علم ہو جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ انہوں نے اپنے ناقدین اور مخالفین کے یہ بیانات دیکھے ہیں کہ چین اور روس ایران کی مدد کر رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہو بھی رہا ہے تو اس کا پیمانہ بہت محدود ہوگا لیکن انہیں نہیں لگتا کہ دونوں ممالک ایسا کر رہے ہیں۔
https://t.co/r38psw4Zl7
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) October 13, 2026
اس سے قبل جولائی میں بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں اعتماد ہے کہ چین اور روس ایران جنگ میں تہران کی مدد نہیں کریں گے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر دونوں ممالک اس تنازع میں مداخلت کرتے ہیں تو اس کے ان کے لیے سنگین نتائج ہوں گے۔



