سعودی فوجی اتحاد نے یمن کے دارالحکومت صنعاء میں خصوصی آپریشن کی تیاری کر لی۔
سعودی قیادت میں قائم اتحادی فوج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعاء میں ایک مقام پر خصوصی آپریشن سے قبل شہریوں کو وہاں سے نکلنے کے لیے جلد وارننگ جاری کی جائے گی۔
دوسری جانب حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے خبردار کیا ہے کہ صنعاء پر کسی بھی حملے کا جواب سعودی دارالحکومت ریاض میں ‘سخت اور دردناک’ کارروائی کی صورت میں دیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سعودی قیادت میں قائم اتحادی فوج کے ترجمان نے 13 اکتوبر کو بتایا کہ صنعاء میں مجوزہ خصوصی آپریشن سے پہلے متعلقہ مقام پر موجود شہریوں کو انخلا کی ہدایت جاری کی جائے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں کے دوران یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملے کیےگئے ہیں، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔
صنعاء پر حملے کی صورت میں ریاض کو سخت جواب دینے کی دھمکی
حوثی تحریک کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی قیادت میں قائم اتحاد کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر صنعاء پر حملے کیے گئے تو اس کا جواب سعودی دارالحکومت ریاض میں دیا جائے گا۔
یحییٰ سریع نے ممکنہ جوابی کارروائی کو ‘سخت اور دردناک’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صنعاء پر کسی بھی حملے کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ ان کے بیان سے یمن میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحادی فوج کی جانب سے شہریوں کے انخلا کی وارننگ جاری کرنے کے اعلان اور حوثی ترجمان کی جوابی کارروائی کی دھمکی کے بعد صنعاء کی سکیورٹی صورتحال پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔
ریاض پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے، 14 افراد ہلاک
یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی دارالحکومت ریاض اور دیگر اہم تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دو روز کے دوران ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر 14 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ سعودی حکام نے فضائی دفاعی نظام کی ناکامی کے اسباب جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
رائٹرز اور الجزیرہ کے مطابق، حوثیوں نے 10 اکتوبر کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے مہلک حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
اس کے بعد 11 اکتوبر کو بھی ایئرپورٹ کے ٹرمینل کو نشانہ بنایا گیا، جس سے آگ بھڑک اٹھی اور مزید جانی نقصان ہوا۔
سعودی حکام کے مطابق پہلے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بعد ازاں 13 ہو گئی جبکہ دوسرے حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ یوں دونوں حملوں میں مجموعی ہلاکتیں 14 ہو گئیں۔
ریاض پر تازہ بیلسٹک میزائل حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ
12 اکتوبر کو سعودی قیادت میں قائم اتحادی فوج نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل اور جنوب مغربی شہر خمیس مشیط کی جانب داغے گئے دو میزائل فضا میں تباہ کر دیے گئے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ان کی تنظیم نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا، جبکہ خمیس مشیط کے قریب ایک فوجی فضائی اڈے کی جانب ڈرون بھی بھیجا گیا۔
سعودی دارالحکومت میں فضائی خطرے کی وارننگ کے بعد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ تاہم سعودی حکام نے تازہ حملے میں میزائلوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔
سعودی عرب میں ائیر پورٹ بند، پروازیں منسوخ
حوثیوں کے حملوں کے بعد ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمد و رفت معطل کر دی گئی جبکہ سعودی حکام نے اعلان کیا کہ ایئرپورٹ ہفتے تک بند رہ سکتا ہے۔
متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے ریاض کے لیے پروازیں منسوخ یا معطل کر دیں۔ اتحاد ایئرویز نے ریاض کے علاوہ دمام اور جدہ کے لیے بھی پروازیں روکنے کا اعلان کیا، جبکہ گلف ایئر نے ریاض کی پروازیں ہفتے تک منسوخ کر دیں۔
سعودی حکام نے ریاض میں تعلیمی اداروں کی سرگرمیاں بھی عارضی طور پر آن لائن منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان اقدامات سے واضح ہوا کہ حملوں نے نہ صرف شہری سلامتی بلکہ فضائی سفر اور اہم معاشی سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
سعودی عرب کے دفاعی نظام پر سوالات، خلیجی ممالک کا مشترکہ ردعمل
ریاض ایئرپورٹ پر جانی نقصان کے بعد سعودی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو بروقت روکنے میں دفاعی نظام کیوں ناکام رہا۔
متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب پر حملوں کے بعد خلیجی ممالک کے درمیان مشترکہ سکیورٹی اور دفاعی تعاون بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب نے بھی حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ مشترکہ بیان میں حملوں کی فوری اور غیر مشروط بندش کا مطالبہ کیا گیا۔
موجودہ صورتحال میں دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کا خطرہ برقرار ہے جبکہ شہری آبادی، فضائی سفر اور خطے کی اہم معاشی تنصیبات کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔



