اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے قریبی مشیر یوناتان اورچ نے مبینہ طور پر چیٹ جی پی ٹی سے قطر کا اسرائیلی شہریوں اور دنیا بھر کی یہودی برادریوں میں مثبت تاثر کے لیے مشورہ لینے کا انکشاف ہوا ہے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کے مشیر یوناتان اورچ نے اے آئی سے اسرائیلی شہریوں، دنیا بھر کی یہودی برادریوں اور امریکا کی بااثر شخصیات کو ہدف بنا کر پیغامات کے تین الگ الگ خاکے تیار کرنے کی درخواست کی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ انکشاف مبینہ ‘قطر گیٹ’ اسکینڈل کی تحقیقات کے دوران یوناتان اورچ سے ہونے والی تفتیش کے اقتباسات سامنے آنے کے بعد ہوا۔ تفتیش کاروں نے انہیں پولیس کے ہاتھ لگنے والی خط و کتابت بھی دکھائی۔
قطر کے حق میں پیغام رسانی کا الزام
قطر گیٹ تحقیقات میں یہ الزامات زیر تفتیش ہیں کہ اورچ اور نیتن یاہو کے قریبی حلقے کی بعض دیگر شخصیات نے قطر سے منسلک ذرائع سے مبینہ طور پر غیر قانونی رقوم وصول کیں تاکہ اسرائیل میں قطر کے حق میں بیانیے کو فروغ دیا جا سکے۔ اس معاملے میں رشوت، غیر ملکی ایجنٹ سے رابطے اور منی لانڈرنگ سمیت ممکنہ جرائم کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
Prime Minister Benjamin Netanyahu’s adviser and close confidant, Yonatan Urich, asked ChatGPT to create a strategic plan to improve Qatar’s image in Israel and around the world, Channel 12 reported on Monday evening.
https://t.co/c3uj3N5JeE— The Jerusalem Post (@Jerusalem_Post) October 13, 2026
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کے مشیر نے چیٹ جی پی ٹی سے قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی اور امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے بھی اضافی تجاویز مانگی تھیں۔ تاہم تفتیش کے دوران خط و کتابت دکھائے جانے کے باوجود یوناتان اورچ نے قطر کے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرنے کی تردید کی۔
انہوں نے چیٹ جی پی ٹی سے لیے گئے مشورے پر کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ چیٹ جی پی ٹی سے کیا پوچھا تھا، کیونکہ وہ اس سے مختلف موضوعات پر سوالات کرتے رہتے ہیں۔
نیتن یاہو کے مشیر نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل میں قطر کی جانب سے میڈیا، عوام یا وزیراعظم کے ساتھ معاملات میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
مشیر کو عہدے سے نہ ہٹانے پر نیتن یاہو تنقید
رپورٹ سامنے آنے کے بعد اسرائیلی سیاست دان گادی آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ قطر گیٹ کی جاری تحقیقات کے باوجود یوناتان اورچ کو وزیراعظم کے قریبی حلقے میں برقرار رکھنا قابل اعتراض ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اسرائیلی شہریوں کے خلاف اثراندازی کی کارروائی اور نفسیاتی جنگ کے مترادف ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بھی قطر گیٹ کو ملکی تاریخ کا انتہائی سنگین غداری کا اسکینڈل قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جنگ کے دوران وزیراعظم کے دفتر سے قطر کی ساکھ بہتر بنانے کی کوششیں کرنے والے دراصل قطر کے مفادات کے لیے کام کر رہے تھے۔
نیتن یاہو کے مشیر یوناتان اورچ کا مؤقف
یوناتان اورچ نے اسرائیلی نشریاتی ادارے این 12 کو بتایا کہ رپورٹ میں شائع ہونے والی تفصیلات پہلے ہی کئی صحافیوں کے علم میں تھیں، لیکن کسی نے چیٹ جی پی ٹی سے ان کے سوالات پر توجہ نہیں دی، کیونکہ ان کے بقول انہوں نے ان سوالات پر عملی طور پر کچھ نہیں کیا، جس کی تفتیش میں بھی تصدیق ہوئی۔
قطر گیٹ اسکینڈل کیا ہے؟
مارچ 2025 میں قطر گیٹ اسکینڈل سامنے آیا جسے اسرائیل کا ایک اہم سیاسی اور کرپشن اسکینڈل کہا جاتا ہے۔ جس میں اسرائیلی وزیراعظم کے مشیروں پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر قطر کی حکومت سے رشوت اور فنڈنگ حاصل کی ہیں، تاکہ اسرائیل میں قطر کے حق میں بیانیہ فروغ دے کر مصر کے خلاف مہم چلائی جائے۔
قطر گیٹ اسکینڈل میں نیتن یاہو کے قریبی مشیر یوناتان اورچ اور سابق ترجمان ایلی فیلڈسٹائن کو اسرائیلی پولیس اور انٹیلی جنس ادارے شن بت نے رشوت ستانی، منی لانڈرنگ اور قومی سلامتی کو متاثر کرنے والے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔



