آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے، پولیس نے 37 افراد کو گرفتار کر لیا۔
عرب نیوز کے مطابق آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں اسکولوں کے نئے یونیفارم قواعد کے خلاف طلبہ نے اسکولوں کے باہر مظاہرے کرکے ان لڑکیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا جنہیں مبینہ طور پر حجاب پہننے کی وجہ سے اسکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔
آذربائیجان کی حکومت نے 21 ستمبر کو اسکول یونیفارم سے متعلق نئے قواعد کی منظوری دی تھی۔ ان قواعد کے تحت طلبہ کو ایسے لباس میں کلاسوں میں شرکت سے روک دیا گیا جو تعلیم کی سیکولر نوعیت سے مطابقت نہ رکھتا ہو یا اسکولوں کے لباس سے متعلق ضابطے کی یکسانیت کو متاثر کرے۔
ضلع یاسامال میں اسکول کو آگ لگانے کی کوشش
میڈیا رپورٹس کے مطابق باکو کے ضلع قرہ داغ میں مظاہرین نے ایک اسکول کے ڈائریکٹر کی گاڑی کو آگ لگا دی، جبکہ ضلع یاسامال میں ایک اسکول کو بھی آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔ ان دونوں واقعات میں کسی شخص کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
آذربائیجان کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ امنِ عامہ میں خلل ڈالنے کے معاملے میں فوجداری تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ 37 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘‘
Videos show schoolchildren protesting outside schools and boycotting classes after reports that a new ‘secular’ dress code recently introduced by the Azerbaijani government has led to hijab-wearing pupils and teachers being barred from school. https://t.co/JlT8GWj8mA
— Al Jazeera English (@AJEnglish) October 10, 2026
توانائی کے وسیع ذخائر رکھنے والا آذربائیجان بنیادی طور پر شیعہ مسلم آبادی کا ملک ہے، تاہم کئی دہائیوں تک سوویت حکمرانی میں رہنے کے بعد یہ مسلم دنیا کی نسبتاً زیادہ سیکولر ریاستوں میں شمار ہوتا ہے۔
حکام نے انتہا پسندی کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں کے تحت مذہبی عبادات پر پابندیاں عائد کی ہیں اور شدت پسند عناصر کو گرفتار بھی کیا ہے۔ تاہم ناقدین نے حکومت پر مذہبی رجحان رکھنے والے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
حجاب پر پابندیوں کے خلاف 2010 سے 2012 کے دوران بھی مظاہرے ہوئے تھے، جنہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کیا تھا۔آذربائیجان میں عوامی اجتماعات پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔
صدر الہام علیوف کی حکومت کو سیاسی مخالفین اور آزاد میڈیا کے ساتھ برتاؤ کے معاملے پر مغربی ممالک کی تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔


