رحمان بابا ایکسپریس حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی۔
کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس گزشتہ روز ملتان کے شیرشاہ اسٹیشن کے قریب حادثے کا شکار ہوئی تھی جس کے باعث 4 افراد جاں بحق اور 41 زخمی ہوئے۔
رحمان بابا ایکسپریس حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ٹرین کے انجن کے بعد دوسری بوگی کے بریکنگ سسٹم کا آہنی راڈ ریلوے کراسنگ کے سوئچ میں پھنسنے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث بوگی الٹ گئی۔
رپورٹ کے مطابق آہنی راڈ پھنسنے سے پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں دوسری بوگی الٹ گئی تھی، جبکہ اس کے پیچھے آنے والی تمام 13 بوگیاں بھی پٹڑی سے اتر گئیں۔
ریلوے انکوائری رپورٹ میں حادثے کی ابتدائی وجہ بریکنگ سسٹم کے آہنی راڈ کا ایک حصہ کراسنگ کے سوئچ میں پھنسنا قرار دیا گیا۔
گزشتہ روز پیش آنے والے حادثے پر ریلوے انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ٹرین میں 500 سے 600 لوگ سوار تھے جنہیں بوگیوں سے نکالا گیا جبکہ ایک بوگی کو کاٹ کر مسافروں کا نکالنا پڑا۔
حادثے کے بعد کراچی سے لاہور آنے والی جعفر ایکسپریس اور تیز گام ایکسپریس کا شیڈول متاثر ہوا تھا۔ ریلوے حکام کے مطابق دونوں ٹرینوں کا روٹ تبدیل کیا گیا جس کی وجہ سے دونوں ٹرینیں اپنے مقررہ وقت سے تاخیر سے لاہور پہنچیں۔
وزیر ریلوے حنیف عباسی نے حادثے کے مقام کے دورے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی افسوس ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر حادثے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہو گی۔ ریلوے ٹریک کی بہتری اور مسافروں کا محفوظ سفر میری اولین ترجیح ہے۔
آج شیر شاہ ٹرین حادثے کے مقام کا دورہ کیا۔ قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی افسوس ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر حادثے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ریلوے ٹریک کی بہتری اور مسافروں کا محفوظ سفر میری اولین ترجیح ہے۔ https://t.co/JeKUC2i6n6
— Muhammad Hanif Abbasi (@MHanif_Abbasi) October 13, 2026
واضح رہے کہ یہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران مسافر ٹرینوں کو پیش آنے والا چوتھا واقعہ ہے۔ اس سے قبل 30 ستمبر کو راولپنڈی سے کراچی جانے والی پاکستان ایکسپریس ٹرین کی ایک بوگی کھاریاں کے قریب پٹری سے اتری تھی۔ اگلے ہی دن کراچی سے لاہور جانے والی شالیمار ایکسپریس جبکہ پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس پٹری سے اتریں۔ خوش قسمتی سے ان حادثات میں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا تھا۔



