وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبوں کو زرعی ترقی کے لیے ہر قسم کا تعاون فراہم کرے گی۔
قومی زرعی و غذائی تحفظ کونسل کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور یہ شعبہ مختصر مدت میں پاکستان کی معیشت کو ترقی دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کو سستی کھاد، معیاری بیج اور جدید زرعی مشینری فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو ان کی فصلوں کی مناسب قیمت دلانا بھی ضروری ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ لائیو اسٹاک کا شعبہ ملکی برآمدات میں اضافے کی وسیع صلاحیت رکھتا ہے اور پاکستانی حلال گوشت کی برآمدات بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی حکومت زرعی ترقی کے لیے صوبوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
انہوں نے پنجاب میں کسان کارڈ سمیت دیگر اقدامات کے ذریعے کسانوں کو براہ راست سبسڈی کی فراہمی کو سراہا، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے کسانوں کی ترقی اور انہیں سہولیات فراہم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں قومی زرعی و غذائی تحفظ کونسل (NAFSC) کا پہلا اجلاس منعقد ہوا.
اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے. زراعت پاکستان کی معیشت کو قلیل مدت میں ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی استعداد رکھتی ہے. وزیرِ اعلی پنجاب کسانوں کی ترقی، ایکوا کلچر، شرمپ فارمنگ اور کسان کارڈ کے ذریعے کسانوں کو براہ راست سبسڈی فراہم کرنے جیسے احسن اقدامات کر رہی ہیں. وزیرِ اعلی سندھ کسانوں کی ترقی اور انہیں سہولیات فراہم کرنے کیلئے شب و روز محنت کررہے ہیں.
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ لائیو اسٹاک کا شعبہ بھی ملکی برآمدات بڑھانے کی وسیع استعداد رکھتا ہے. پاکستانی حلال گوشت کی برآمدات میں اضافے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں.وفاقی حکومت صوبوں کو زراعت کی ترقی کیلئے ہر قسم کا تعاون فراہم کرے گی. کسانوں کو کم لاگت پر کھاد، معیاری بیج، جدید مشینری اور پانی کے بہتر استعمال کیلئے آلات و تکنیکی صلاحیتوں کی فراہمی اولین ترجیح ہے. کسانوں بالخصوص چھوٹے و درمیانے درجے کے کسانوں کو انکی فصل کی صحیح قیمت فراہم کرنا ترجیح ہے.
وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے گندم وافر مقدار میں موجود ہے. گندم کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائیگی. گندم کی بوائی سے پہلے اسکی صحیح قمیت کا تعین ضروری ہے تاکہ کسانوں کو انکی محنت کا مناسب معاوضہ ملے. چاہتے ہیں کسانوں کو گندم کی صحیح قیمت اور صارف کو سستی گندم ملے. گندم کی قیمت کے حوالے سے فیصلہ صوبوں کی مشاورت کے ساتھ کیا جائیگا. صوبوں کے ساتھ مشاورت مکمل کرکے جلد گندم کی قیمت کا اعلان کیا جائیگا.
اجلاس میں وزیرِ اعلی پنجاب اور وزیرِ خوراک سندھ نے پنجاب اور سندھ میں کسانوں کی ترقی کیلئے صوبائی حکومتوں کے اقدامات پر روشنی ڈالی. اجلاس میں بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں زراعت کی ترقی کیلئے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی.
اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، جام کمال خان، احد خان چیمہ، احسن اقبال، عطاء اللہ تارڑ، خالد حسین مگسی، میاں معین وٹو، مشیران رانا ثناء اللہ، ہارون اختر. وزیرِ اعلی پنجاب مریم نواز شریف، وزیرِ زراعت سندھ مخدوم محبوب الزمان، اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) October 13, 2026
شہباز شریف نے کہا کہ ملک میں ضروریات پوری کرنے کے لیے گندم وافر مقدار میں موجود ہے، تاہم گندم کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ گندم کی بوائی سے پہلے اس کی درست قیمت کا تعین ضروری ہے تاکہ کسانوں کو مناسب معاوضہ مل سکے۔ حکومت چاہتی ہے کہ کسانوں کو گندم کی مناسب قیمت ملے اور صارفین کو بھی سستی گندم دستیاب ہو۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ گندم کی قیمت کا فیصلہ صوبوں کی مشاورت سے کیا جائے گا اور مشاورت کا عمل مکمل ہونے کے بعد جلد قیمت کا اعلان کر دیا جائے گا۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر خوراک سندھ نے کسانوں کی ترقی اور زرعی شعبے کی بہتری کے لیے اپنے اپنے صوبوں میں کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ بھی دی۔



