وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ تحریک انصاف کی ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث کرنا پڑا۔
اپوزیشن ایمرجنسی اور گورنرراج کے نفاذ کوعدالت میں چیلنج کرسکتی ہے، ایمرجنسی کی توثیق پارلیمان کرے گی جبکہ مقاصد کے حصول تک ایمرجنسی برقرار رہے گی۔
گزشتہ روز خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی تھی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کے لیے ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، دہشت گردی کے خلاف تعاون مانگا گیا لیکن اپوزیشن کھیل تماشے کی سیاست کرتی رہی۔
اپوزیشن کے عدم تعاون کے باعث یہ اقدام کرنا پڑا اور وفاق کو انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں مسلسل رکاوٹوں کا سامنا رہا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور شہدا سے متعلق مکمل ڈیٹا اپوزیشن کے سامنے رکھیں گے، اپوزیشن اپنی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں حکومت کو بھی دعوت دے تاکہ تمام معاملات پر تفصیلی بات ہوسکے۔
وفاقی وزیر کے مطابق بارہ اضلاع میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ ایمرجنسی کے بعد متاثرہ علاقوں کو کلیئر کرکے سول انتظامیہ کے حوالے کیا جائے گا۔
طارق فضل نے کہا کہ حکومت کا مقصد خیبر پختونخوا میں دائمی امن کا قیام ہے، اس مقصد کے لیے اپوزیشن لیڈر کو کئی بار مذاکرات کی دعوت دی گئی۔
حکومت مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرے گی اورامن کے قیام کے لیے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش جاری رکھے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عوام نے ایمرجنسی اور گورنرراج کے نفاذ کو سراہا ہے، حکومت کا یہ اقدام دہشت گردی کے خاتمے اور متاثرہ علاقوں میں امن بحال کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایمرجنسی کے نفاذ پر اختلاف رکھنے والی اپوزیشن کے پاس عدالتی راستہ موجود ہے اور وہ چاہے تو اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کرسکتی ہے۔
طارق فضل نے مزید کہا کہ حکومت دہشت گردی کے معاملے پر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر تعاون چاہتی ہے۔
اپوزیشن کو دہشت گردی کے واقعات، شہدا اور امن و امان کی صورت حال سے متعلق اعداد و شمار فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ زمینی حقائق سے آگاہ ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے مقاصد پورے ہونے اور متاثرہ علاقوں میں حالات بہتر ہونے کے بعد سول انتظامیہ کو ذمہ داریاں منتقل کی جائیں گی۔



