صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے ایک اور بعد آج امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر مختلف انتظامی نوعیت کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
View this post on Instagram
گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری دی تھی، وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے دستخط کئے۔
صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت مختلف علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی بحالی شروع ہوگئی ہے جبکہ بی آر ٹی سروس بدستور بند ہے، شہر کا ریڈ زون اب بھی سیل ہے، مختلف مقامات پر کنٹینرز موجود اور سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔
View this post on Instagram
پشاور میں آج تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور نے آج سے شروع ہونے والے امتحانات بھی ملتوی کردیے ہیں۔
پشاور بورڈ کے ترجمان کے مطابق امتحانات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے گئے ہیں جبکہ امتحانات کی نئی ڈیٹ شیٹ دوبارہ جاری کی جائے گی۔اس فیصلے کے نتیجے میں آج سے شروع ہونے والے امتحانات میں شریک ہونے والے طلبہ کو نئی تاریخوں کے اعلان کا انتظار کرنا ہوگا۔
View this post on Instagram
دوسری جانب لوئر دیر میں تعلیمی اداروں کی 2 روزہ بندش کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ لکی مروت میں بھی آج ضلع بھر کے تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں نوتعینات ڈپٹی کمشنر نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
ترجمان موٹر وے پولیس کا کہنا ہے کہ پشاور سے اسلام آباد جانے والی موٹر وے ایم ون اور جی ٹی روڈ ٹریفک کے لیے کھلی ہے، کرنل شیر خان انٹر چینچ سے چکدرہ تک سوات ایکسپریس وے پر بھی ٹریفک بحال ہے۔
جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہکلہ سے ڈی آئی خان ایم 14 گزشتہ رات ہونے والی بارش کے باعث جزوی طور پر بند ہے۔
ادھر ہنگو میں ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کردی ہے جس کے تحت پانچ سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سکیورٹی صورتحال پر توجہ دی جارہی ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا کی زیر صدارت سکیورٹی سے متعلق ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں صوبے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر غور کیا گیا۔
گورنر ہاؤس کے ترجمان کے مطابق اجلاس میں خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق مختلف امور زیر بحث آئے۔



