قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ وہ سیاسی مسائل کے حل اور ‘جہمہوری پاکستان کی تشکیل کے لیے ہر قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں’ لیکن خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف عوامی اور جمہوری جدوجہد بھی جاری رکھیں گے۔
اسلام آباد میں دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہوریت کی بحالی کے لیے ان کی تحریک پُرامن ہوگی اور وہ نہ کسی کو گالی دیں گے، نہ گولی چلائیں گے اور نہ ہی کسی پر پتھر پھینکیں گے۔
محمود اچکزئی نے خیبر پختونخوا کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ “جن جن اضلاع میں ایمرجنسی نہیں لگی ہے، ان اضلاع میں اپنی جمہوری جد و جہد اور اپنی جمہوری تحریک جاری رکھیں” لیکن کسی ایسے اقدام سے گریز کریں جس سے تشدد کو ہوا ملے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو حراست میں لینے کے علاوہ صوبے کے انتظامی اور سکیورٹی ڈھانچے میں متعدد تبدیلیاں کیں جن میں صوبے کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل کا قیام، سکیورٹی کے لحاظ سے حساس 12 اضلاع کے انتظامی امور کی نگرانی کے لیے الگ سیکریٹریٹ کا قیام، فوج کی تعیناتی، چیف سیکرٹری سمیت اعلیٰ پولیس افسران کا تبادلہ اور ایڈووکیٹ جنرل آفس کے 57 افسران کو عہدوں سے ہٹائے جانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
محمود اچکزئی نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لانگ مارچ شروع کیا تھا کہ ان کا لیڈر جیل میں ہے اور ان کی صحت کے بارے میں عجیب عجیب خبریں آ رہی ہیں لہذا ہمیں ان سے ملاقات کرنے دی جائے۔
اپوزیشن لیڈر نے واضح کیا کہ وہ اور علامہ ناصر عباس چاہتے ہیں کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان ایک معاہدہ ہو لیکن یہ کیسے ممکن ہے جب ‘ایک لشکر سے امام’ سے ہمیں ملنے ہی نہیں دیا جا رہا۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی سے ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے تو وہ وعدہ کرتے ہیں کہ ان سے ملاقات کے بعد ایک لفظ بھی میڈیا کو نہیں بتائیں گے۔
اس موقع پر انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ عمران خان کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا رہا لیکن ‘وہ نہیں جا رہا، یہ اس کی ہمت ہے۔’
محمود خان اچکزئی نے الزام عائد کیا کہ عوامی مینڈیٹ چوری کیا گیا اور پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دینے والوں کے حق رائے دہی پر ڈاکا ڈالا گیا۔ ان کے بقول، عوام نے بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حمایت کی، لیکن اس مینڈیٹ کو طاقت کے زور پر چھینا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 4 کروڑ افراد کے حق رائے دہی کا مذاق اڑایا گیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے بلوچستان کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سکیورٹی کے حالات خراب ہونے کے باوجود ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بلوچستان میں کارروائی نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہاں حکمران جماعت کے پسندیدہ لوگ اقتدار میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی بحران کا حل صرف سچائی اور باہمی اعتماد کے ذریعے ممکن ہے۔ ان کے بقول، ایسے افراد کو مذاکرات میں شامل ہونا چاہیے جن پر عمران خان اعتماد کرتے ہوں۔
محمود اچکزئی نے موجودہ سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت اسی وقت مضبوط ہو سکتی ہے جب پارلیمان کو حقیقی اختیار حاصل ہو۔ انہوں نے انتخابات کے نتائج اور مختلف صوبوں میں حکومتوں کے قیام کے حوالے سے بھی اعتراضات اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ پارلیمان کو طاقت کا مرکز بنایا جائے اور سیاسی اختلافات کو جمہوری طریقے سے حل کیا جائے۔
محمود اچکزئی نے اس بات پر زور دیا کہ انہیں پاکستان سے محبت ہے اور وہ ملک کے مستقبل کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام پر زور دیا کہ سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔
‘اپوزیشن رہنماؤں کو دہشت گرد قرار دیا گیا’
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کے مؤقف سے اتفاق کیا اور کہا کہ ملک میں آئین کو محض کاغذ کا ٹکڑا سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں زبردستی آئینی ترامیم کی گئیں اور اپوزیشن رہنماؤں کو دہشت گرد قرار دیا گیا۔
راجا ناصر عباس نے خیبرپختونخوا حکومت کے خاتمے کو صوبائی حکومت پر شب خون قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن قائم کرنے اور دہشت گردی ختم کرنے کے نام پر حکومت گرا دی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ماضی میں کیے گئے ایسے اقدامات سے کیا امن قائم ہوا؟ ان کے مطابق، اگر سکیورٹی صورت حال ایمرجنسی کے نفاذ کا جواز تھی تو بلوچستان کی صورت حال پر بھی یہی اقدام ہونا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ معاملہ بہت آگے بڑھ چکا ہے اور عوام کی حمایت کے بغیر کوئی حکومت اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتی۔
ایمرجنسی اور گورنر راج عدالت میں چیلنج کریں گے، بیرسٹر گوہر
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ان کی جماعت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے نتائج کا جائزہ لیا ہے اور اس حوالے سے متعدد فیصلے کیے ہیں۔ انہوں نے 11 اکتوبر کو ملکی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو حراست میں لیا گیا ہے اور صوبے میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے اعلان کیا کہ وہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی ہر فورم پر حکومتی اقدامات کے خلاف آواز اٹھائے گی، پارلیمنٹ میں احتجاج کرے گی اور ایمرجنسی سے متعلق قرارداد کو مسترد کرے گی۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے 11 اکتوبر کے اقدامات واپس لینے اور خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام ایمرجنسی اور گورنر راج کو مسترد کرتے ہیں اور وفاق اسی وقت مضبوط ہوگا جب صوبے مضبوط ہوں گے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی پاکستان کے لیے ناسور ہے اور دہشت گردوں کو کہیں پناہ نہیں ملنی چاہیے، تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر عوام کو تقسیم نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومتی اقدامات سے قبل وفاقی حکومت کے ساتھ آخری وقت تک رابطے جاری تھے، لیکن اس کے باوجود اچانک حکومتی مشینری تبدیل کر دی گئی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ان کی جماعت آئینی اور سیاسی ذرائع سے اپنے مؤقف کے لیے جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بھی اگلے روز ہوگا۔
