صدر مملکت آصف علی زرداری سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ملاقات کی، جس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران صدر مملکت کو بالخصوص خیبرپختونخوا میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال اور سکیورٹی سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی۔ انہیں صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ پر غور کر رہی ہے۔
دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے پر غور کیا گیا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایوانِ صدر میں ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتِ
حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایوانِ صدر میں ہونے والی بیٹھک میں ملک کو درپیش مجموعی سیاسی اور سکیورٹی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں حکومتی سطح پر اہم امور اور پارلیمانی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر بھی غور کیا گیا۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس 13 اکتوبر کو طلب کرنے پر اتفاق
ملاقات کے دوران منگل، 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے پر اتفاق کیا گیا۔
اس فیصلے کے تحت دونوں ایوانوں کے اجلاس الگ الگ منعقد ہوں گے، جہاں پارلیمانی کارروائی آئینی اور قانونی طریقۂ کار کے مطابق آگے بڑھائی جائے گی۔
صدرِ مملکت اور وزیراعظم کی ملاقات میں ہونے والی مشاورت کو ملک کی سیاسی صورتِ حال اور پارلیمانی امور کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے اور اہم فیصلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
وزیراعظم نے کل صبح ساڑھے 9 بجے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا
وزیراعظم شہباز شریف نے کل صبح ساڑھے 9 بجے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے مختلف آئینی آپشنز پر غور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کی صورتحال سے متعلق مختلف آئینی اقدامات پر مشاورت جاری ہے، جبکہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں صوبے کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ممکنہ آئینی آپشنز کا جائزہ لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی زیرِ قیادت صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی کے باعث صوبے میں ممکنہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے معاملے پر بھی سیاسی سطح پر بحث جاری ہے۔ تاہم، تاحال کسی مخصوص آئینی اقدام کے نفاذ کا حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔



