خیبرپختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے پر سیاسی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ جمہوری حکومت میں ایمرجنسی کا نفاذ اچھی بات نہیں، تاہم اگر مجبوری کے تحت کوئی قدم اٹھانا پڑے تو پھر اس کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے۔
ہم نیوز کے پروگرام کوئسچن آور میں گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے مواقع فراہم کیے، لیکن ان کے بقول کوئی بھی بات ماننے کو تیار نہیں۔
انہوں نے صوبے کی صورتِ حال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کا اس وقت برا حال ہے، دہشت گردی عروج پر ہے اور گڈ گورننس کا فقدان ہے۔
سابق وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کرنے سے گریزاں ہے اور دہشت گردی کے معاملے پر وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں کوئی آئینی اقدام اٹھاتی ہے تو ممکن ہے کہ ایسا مجبوری کے تحت کیا جائے۔ پرویز خٹک کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ختم ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال اور حکومتی کارکردگی پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
گورنر راج یا ایمرجنسی دہشت گردی کا حل نہیں، بیرسٹر گوہر
دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کی ہے۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کی ضرورت پر تمام متعلقہ فریق متفق ہیں، تاہم اس مقصد کے حصول کے طریقۂ کار پر اختلافات موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اختلافات مذاکرات کے ذریعے دور کیے جا سکتے تھے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج دہشت گردی کا حل نہیں اور ایسے اقدامات صوبے اور وفاق کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے ساتھ صورتِ حال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے سیاسی مذاکرات جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔
ایمرجنسی یا گورنر راج کا ردعمل عوام دیں گے، سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی بھی صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کر چکے ہیں۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر صوبے میں کوئی غیر آئینی اقدام کیا گیا تو اس کا ردعمل ان کی جانب سے نہیں بلکہ عوام کی جانب سے آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی قوتیں مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرتی ہیں اور ان کی جماعت نے نو ماہ تک انتظار کیا۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کے علاج کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
وفاق اور صوبائی حکومت میں کشیدگی برقرار
خیبرپختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی یا گورنر راج پر وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ وفاقی حکومت صوبے میں انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات اور سکیورٹی تعاون پر زور دے رہی ہے، جبکہ صوبائی قیادت غیر معمولی آئینی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے مذاکرات اور پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
دوسری جانب صدر ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے پر غور کیا گیا اور 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بھی علیحدہ علیحدہ طلب کر لیے گئے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر کل بروز اتوار صبح ساڑھے نو بجے وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کرلیا ہے جس میں اہم فیصلہ کیا جائے گا۔



