صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ہفتے کو ایوانِ صدر میں ملک کی مجموعی صورتحال پر غور کے لیے اہم اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزرا کی شرکت متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں خیبرپختونخوا (کے پی) میں ممکنہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سمیت مختلف آئینی آپشنز پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اجلاس آج پانچ بجے ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی زیرِ قیادت خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث یہ مشاورت اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ تاہم، صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ 4 اکتوبر سے خیبرپختونخوا میں جاری ہے جو مختلف شہروں سے ہوتا ہوا اسلام آباد کی جانب رخ کرے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی مولانا فضل الرحمان کو ملاقات کی دعوت
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی دعوت دی۔
وزیراعظم آفس (پی ایم او) کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے دعوت قبول کر لی ہے اور دونوں رہنماؤں کی ملاقات جلد متوقع ہے۔ گفتگو کے دوران وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو عمرے کی ادائیگی پر مبارک باد بھی دی۔
خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی زیرِ غور
اس سے قبل سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کر رہی ہے، جن میں سابق وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے تمام ضم شدہ اضلاع بھی شامل ہیں۔
مجوزہ اقدامات پر غور کی وجوہات میں سکیورٹی خدشات اور انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے صوبائی حکومت کی حکمتِ عملی سے متعلق تحفظات شامل ہیں۔
تاہم ان اطلاعات کی تاحال کسی سرکاری اعلان کے ذریعے تصدیق نہیں کی گئی کہ صوبے کے کسی حصے میں ایمرجنسی نافذ کرنے یا گورنر راج لگانے کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کیا کہتے ہیں؟
خیبرپختونخوا میں ممکنہ آئینی اقدامات سے متعلق بحث کا مرکز آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 ہیں، جن کے تحت مختلف حالات میں غیر معمولی اقدامات کی گنجائش موجود ہے۔
آرٹیکل 232: یہ جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی اندرونی بدامنی کی صورت میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق ہے جو پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن جائے۔ اس کے تحت کارروائی کے لیے آئین میں درج متعلقہ شرائط اور طریقۂ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔
آرٹیکل 234: یہ اس صورتِ حال سے متعلق ہے جب کسی صوبے میں حکومت آئین کے مطابق نہ چلائی جا سکے۔ اس آرٹیکل کے تحت بھی مخصوص آئینی تقاضے پورے کرنا لازم ہیں۔
دونوں آرٹیکلز کی شرائط اور طریقۂ کار مختلف ہیں، اس لیے کسی بھی ممکنہ اقدام کا انحصار متعلقہ آئینی تقاضوں کی تکمیل پر ہوگا۔
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے وفاق اور صوبے میں کشیدگی بڑھ گئی
وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت کے درمیان تناؤ کی ایک بڑی وجہ اسلام آباد کی جانب پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ہے، جس کی قیادت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مذاکرات میں اتفاقِ رائے پیدا نہ ہونے کے بعد لانگ مارچ 4 اکتوبر کو شروع ہوا۔ پی ٹی آئی کا بنیادی مطالبہ پارٹی بانی عمران خان کی رہائی ہے، جبکہ وفاقی حکومت نے مارچ کے دوران سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کے معاملات پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
وفاقی حکومت اور صوبائی انتظامیہ کے درمیان اختلافات نے صوبے میں امن و امان، سکیورٹی انتظامات اور سیاسی مذاکرات کے حوالے سے بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
محسن نقوی اور گورنر فیصل کریم کنڈی کی ملاقات
4 اکتوبر کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پشاور میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی تھی۔
گورنر ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں لانگ مارچ کے دوران سکیورٹی چیک پوسٹوں سے عسکریت پسندوں کو گزرنے میں سہولت فراہم کیے جانے کے خدشات پر بات ہوئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر صدرِ مملکت اور وزیراعظم ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کو ضروری سمجھتے ہیں تو گورنر ہاؤس اپنا آئینی کردار ادا کرے گا۔
بعد ازاں گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی کہا کہ اگر صدر اور وزیراعظم صوبے کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات ضروری سمجھیں تو یہ راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گورنر کی جانب سے چیف سیکرٹری اور پولیس سربراہ کے ساتھ اجلاس کو غیر آئینی قرار دیا تھا، جس سے دونوں جانب اختلافات کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا ایمرجنسی اور گورنر راج کو آخری آپشن قرار دینے پر زور
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعے کو کہا کہ وفاقی حکومت ایمرجنسی یا گورنر راج کے امکانات پر غور کرنے کے لیے تیار تھی تاہم پیپلز پارٹی نے اسے آخری آپشن کے طور پر استعمال کرنے اور مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔
کراچی میں اسپورٹس کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نہ تو ایمرجنسی کے نفاذ کی خواہش رکھتی ہے اور نہ ہی گورنر راج کی حمایت کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کی زیرِ قیادت صوبائی حکومت پر تصادم کو ترجیح دینے کا الزام عائد کیا اور خبردار کیا کہ اگر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں تو کسی بھی ممکنہ فیصلے کی ذمہ داری ان پر عائد ہوگی۔
بلاول بھٹو زرداری کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی موجودہ سیاسی صورتِ حال میں مذاکرات کو ترجیح دینے اور غیر معمولی آئینی اقدامات سے گریز کرنے کی حامی ہے۔
گورنر کے پی کی لانگ مارچ پر تنقید، سکیورٹی اجلاس جاری رکھنے کا اعلان
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر تنقید کرتے ہوئے اسے “سرکس” قرار دیا اور شرکا کو صوابی سے آگے بڑھنے کا چیلنج دیا۔
انہوں نے کہا کہ سکیورٹی سے متعلق اجلاس جاری رہیں گے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لانگ مارچ میں مصروف ہیں۔
گورنر کے اس بیان نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سیاسی اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ایک جانب وفاقی حکومت سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق خدشات کا اظہار کر رہی ہے، تو دوسری جانب پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت بعض اقدامات کو غیر آئینی قرار دے رہی ہے۔
ایمرجنسی یا گورنر راج سے متعلق حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہوا
صدر آصف علی زرداری کی جانب سے طلب کیے گئے اجلاس اور وزیراعظم شہباز شریف کی مولانا فضل الرحمان سے مجوزہ ملاقات کو موجودہ سیاسی صورتِ حال میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے کوئی حتمی سرکاری فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ پیپلز پارٹی نے بھی ان اقدامات کو آخری آپشن قرار دیتے ہوئے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔
آئندہ مشاورت میں وفاقی حکومت، سیاسی قیادت اور متعلقہ آئینی عہدیداروں کے درمیان ہونے والی بات چیت سے یہ واضح ہو سکے گا کہ موجودہ کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کو آگے بڑھایا جاتا ہے یا کسی آئینی اقدام پر غور کیا جاتا ہے۔



