چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں عملاً گورنر راج نافذ ہے صرف اس کا اعلان باقی ہے۔
صدر آصف علی زرداری کی زیرصدارت ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے پر غور کیا گیا۔ جس کے بعد وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس اتوار کی صبح طلب کر لیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے ملاقات اور وزیراعلیٰ ہاؤس میں پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کے اجلاس میں شرکت کے بعد پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صوبے میں وفاقی حکومت کی مداخلت سے صوبائی حکومت کی رٹ کمزور ہوئی ہے۔ جبکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی اور تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے پر تمام فریق متفق ہیں تاہم اختلاف صرف اس مقصد کے حصول کے طریقہ کار پر ہے، جسے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا تھا۔ گورنر راج یا ایمرجنسی دہشت گردی کا حل نہیں، ایسے اقدامات سے صوبے اور وفاق دونوں کو نقصان پہنچے گا اور حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ اگر صوبے کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی اقدامات پر غور کیا جارہا ہے تو وفاقی یا صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے اور تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے مسئلے کا حل نکالا جائے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہونی چاہیے اور تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ عوام بھی ان اقدامات کی حمایت کریں۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے پشاور میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو
وفاقی مداخلت نے صوبائی حکومت کی رٹ کمزور کر دی – حقیقت یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت عملاً گورنر راج ہے، صرف اعلان باقی ہے۔
دہشت گردی کا حل گورنر راج یا ایمرجنسی نہیں، اس سے بحران مزید بڑھے گا- ایمرجنسی صوبے اور وفاق دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگی- دہشت گردی کے خاتمے پر اتفاق، اختلاف صرف طریقۂ کار پر ہے-
عمران خان سے ایک سال سے بند ملاقاتیں فوری ختم کریں اس سے بہتری آئیگی ۔
ہمارے 3 وزرا سمیت 9 ایم پی ایز اور 8 ایم این ایز کو اٹھایا گیا ہے۔ خان صاحب کی بہنیں اور کزن جیل میں ہیں – یہ تشویشناک ہے-
ملکی قیادت ہٹ دھرمی چھوڑے، سیاسی بصیرت دکھائے— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) October 10, 2026
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی صورت حال تمام جماعتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ملک کے کسی دوسرے صوبے میں اس نوعیت کی مداخلت نہیں کی جارہی اور خیبر پختونخوا میں ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ وہاں پی ٹی آئی کا مینڈیٹ ہے۔
انہوں نے سیاسی قیادت پر زور دیا کہ ہٹ دھرمی کے بجائے سیاسی بصیرت سے کام لیا جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے سیاسی تناؤ میں اضافہ ہو۔ خیبر پختونخوا مزید تجربات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
’17 ارکان اسمبلی کا اٹھایا گیا ہے یا وہ لاپتہ ہیں’
چیئرمین پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کے تین وزرا سمیت 9 ارکان صوبائی اسمبلی اور 8 ارکان قومی اسمبلی کو اٹھایا گیا ہے یا وہ لاپتا ہیں۔
انہوں نے عمران خان کی بہنوں اور کزن کے جیل میں ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عمران خان سے گزشتہ ایک سال سے بند ملاقاتیں فوری طور پر بحال کی جائیں، جس سے صورت حال میں بہتری آسکتی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ چھ مطالبات کے لیے تھا اور ان کے مطابق یہ مطالبات آئینی اور قانونی ہیں۔



