وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ ساڑھے 13 سال کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی حکومتوں نے صوبے کو پیچھے دھکیل دیا ہے جبکہ موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی توجہ بھی گورننس کے بجائے احتجاج اور انتشار پر ہے۔
اسلام آباد میں وزیراعظم کے مشیراختیار ولی اور ن لیگ کے رہنما جلال خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا ایک زمانے میں سیاحت اور امن کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا، دنیا بھر سے لوگ یہاں آتے تھے لیکن گزشتہ ساڑھے13 سال میں خیبرپختونخوا کا جو حشر کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں آئی ٹی پارک کا افتتاح کیا ہے جہاں نوجوانوں کو آئی ٹی کی مہارتیں سیکھنے، اسٹارٹ اپس اور نجی شعبے کو سہولیات فراہم کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔ ان کے مطابق آئی ٹی پارک کے قیام سے ملکی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔
عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ اگر شہباز شریف نے بھی احتجاج کیا ہوتا اور وہ اس پہ میٹنگز نہ کرتے اس کی ٹاسک فورس نہ بناتے تو یہ آئی ٹی پارک مکمل نہ ہوتا، دوسری جانب وفاقی حکومت کی فیول ریلیف اسکیم سے ایک کروڑ افراد مستفید ہو چکے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کی جانب سے صحت، تعلیم، سڑکوں، یونیورسٹیوں اور آئی ٹی کے شعبوں میں بڑے منصوبوں پر توجہ نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے میں گورننس کے لیے کتنے گھنٹے صرف کیے ہیں اور عوام کو کتنے بڑے ترقیاتی منصوبے دیے ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے ذریعے علاقے کلیئر کیے گئے اور امن بحال کیا گیا لیکن بعد میں دہشت گردوں کو دوبارہ آباد ہونے کے مواقع دیے گئے۔
انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا سہولت کار قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی ، ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ طالبان کی نظریاتی سوچ میں خواتین کی آزادی اور کھیلوں سمیت مختلف شعبوں میں ان کی شرکت محدود ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسی سوچ پورے خیبر پختونخوا پر مسلط کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟
عطا اللہ تارڑ نے کوہاٹ میں شہید ہونے والے پولیس کانسٹیبل فہیم اللہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں جانیں دینے والے اہلکاروں اور شہریوں کے اہل خانہ کو جواب دینا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت تقریباً 700 ارب روپے ملے لیکن ان کے بقول صوبے میں انسداد دہشت گردی کے محکمے (سی ٹی ڈی)، فرانزک لیبارٹریز اور سیف سٹی کیمروں سمیت ضروری سکیورٹی اقدامات پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ صوبائی حکومت نے عوامی وسائل ترقیاتی اور سکیورٹی منصوبوں کے بجائے احتجاجی سرگرمیوں پر خرچ کیے۔خیبر پختونخوا کے عوام کو صحت، تعلیم، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے، لیکن حکومت کی ترجیحات میں یہ شعبے ہے ہی نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات، تشدد اور بدامنی کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے اور حکومت کو سیاسی مفادات کے بجائے عوامی خدمت اور امن و امان پر توجہ دینی چاہیے۔
اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ انقلاب کے نام پرصوبے کے عوام کوبےوقوف بنایا گیا ،پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا، ایک یونیورسٹی تک نہ بنا سکی،فنڈز سوشل میڈیا پرخرچ کیے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو ان کے حقوق ملنے اور احتساب کا عمل شروع ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اپنے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے پوچھیں کہ صوبے میں بدحالی کیوں بڑھ رہی ہے اور بعض افراد کے مالی حالات میں اتنی تیزی سے تبدیلی کیسے آئی۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں عوام کو بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے بعض علاقوں کی صورت حال کا موازنہ تھر سے کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے ہر ضلع اور علاقے میں عوامی مشکلات موجود ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض علاقوں میں انسان اور جانور ایک ہی مقام سے پانی پینے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے متعلقہ سیاسی نمائندوں سے سوال کیا کہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ صوبے کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے نمائندوں سے پوچھیں کہ عوامی حالات میں بہتری کیوں نہیں آئی اور صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی بدحالی ان کی تقدیر نہیں ہے اور انہیں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ ہم 90 دنوں میں تبدیلی لائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ ہم چھ مہینوں میں انقلاب لے کر آئیں گے، ایک بہترین نظام حکومت دیں گے جہاں پر امیر اور غریب کے لیے انصاف کا معیار ایک ہوگا۔ سکول، تعلیم کا اور صحت کا معیار سب کے لیے ایک ہوگا۔ گورنر ہاؤسز کو بلڈوز کر دیا جائے گا سی ایم ہاؤسز میں لائبریریز بنیں گی، کالجز بنیں گے، یونیورسٹیز بنیں گی مگر سب کچھ الٹ ہوا۔
یونیورسٹیاں بند ہونے لگی ہیں، وائس چانسلر وہاں پر نہیں ہیں۔ 34 میں سے 18 یونیورسٹیاں اس وقت دیوالیہ پن کی نہج پر پہنچ چکی ہیں۔ کوئی نیا اسپتال یہ بنا نہیں سکے۔ان کے ایک وزیر نے ٹی وی پر آکر کہا کہ ہم نے کئی نئی یونیورسٹیاں بنا دیں۔ میں نے ہاتھ جوڑ کے اس کو بولا کہ خدا رسول کا واسطہ ہے، اتنا جھوٹ بولیں کہ جس کو ہم سن سکیں۔ آپ کا جھوٹ سن کر ہمارے بال جھڑنے لگتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس یونیورسٹی کا وہ نام لے رہے ہیں وہاں پر زمین خالی پڑی ہے اور وہ فرما رہے ہیں کہ وہاں پر سٹوڈنٹس پڑھ رہے ہیں۔ وہاں پر ایک اینٹ نہیں لگی ہے، بلڈنگ تو دور کی بات، اور وہ کہہ رہے ہیں کہ وہاں پر طلبہ پڑھ رہے ہیں۔ میں وہ فائل لے کرمیں گزشتہ چار مہینوں سے پھر رہا ہوں، یہ میرے ساتھ کسی ٹاک شو میں بیٹھتے ہی نہیں ۔اور میں پھر بھی آج اس کو کہتا ہوں کہ ایسا نہ ہو پھر آپ کو موقع ہی نہ ملے، آپ نے اگر وہ چیلنج دیا ہے تو اس کو قبول کرنے کے لیے آ جائیں۔ ایک یونیورسٹی نہیں بنا سکے، ایک یونیورسٹی۔۔۔
اختیار ولی کا مزید کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں جو روڈانفراسٹرکچر ہے وہ مسلم لیگ ن کے گورنرز نے بنایا ہے۔ ہمارے بعد وہاں پر کسی نے سکول نہیں بنایا۔ ہمارے بعد وہاں پر کسی نے کالج نہیں بنایا۔ ہمارے بعد وہاں پر کسی نے پولیس اسٹیشن نہیں بنایا اور جب ہم نے قبائلی اضلاع کا خیبر پختونخواہ میں انضمام کیا ، تو ان کو ہم نے بولا کہ ہم قبائلی عوام کو الگ پیسے دیں گے، وہ پیسے آپ نے قبائلی اضلاع پر ہی لگانے ہیں۔انہوں نے کیا کیا؟ جتنے پیسے یہاں سے جاتے گئے، عمران خان کی حکومت تھی مدعی بھی، منصف بھی، وکیل بھی، دلیل بھی، گھر کا سارا نظام تھا۔ اکاؤنٹ نمبر ون میں ہی جاتے تھے، اور وہیں سے وہ یہ اپنے حلقوں میں اور اپنی خرمستیوں میں، اپنی لوفریوں میں، اپنی سوشل میڈیا کو فیڈ کرنے میں لگاتے۔
اس کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ انہوں نے تقریباً اس وقت کوئی 30، 35 ہزار لوگوں کو جو سوشل میڈیا کے ان کے انفلوئنسرز تھے ان کو 50، 50 ہزار روپے ماہوار دیے۔
اب میں قوم کے سامنے یہ ایک سوال رکھنا چاہتا ہوں، لوگ کہتے ہیں نا کہ کراچی میں یہ کم ہے، سڑک نہیں ہے، وہ نہیں ہے، ہم خیبر پختونخواہ والے جب کراچی جاتے ہیں ہم کہتے ہیں ہم سے بہت بہتر ہیں۔ ہم جب کبھی لاہور یا پنجاب جاتے ہیں، مضافات میں جاتے ہیں پنجاب کے، تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ولی وارث ہے، کوئی کام کر رہا ہے، کسی کو ملک کی، وطن کی، اپنے عوام کی، اپنے لوگوں کی، اپنے ووٹروں کی، ان کی فکر ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ کمی کوتاہی ہر جگہ ہوتی ہے، لیکن ہم جو دیکھتے ہیں تو ہم پھر ہمیں رشک آتا ہے پنجاب کے لوگوں پر، سندھ کے لوگوں پر۔
وہ ان کا ایک رہنما جو 2013 میں جس کا ایک پرائیویٹ سکول تھا جس میں 100 بچے نہیں تھے، آج وہ 200 سکولوں کا مالک بن چکا ہے۔ ایک اور وزیر ہسپتالوں کے چین کا مالک بن چکا ہے۔ کیا خیبر پختونخواہ کے لوگوں کو یہ سب کچھ نظر نہیں آتا؟
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ صوبے میں مبینہ بدعنوانی اور حکومتی کارکردگی کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔


