پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان سیاسی تناؤ کم کرنے کیلئے کردار ادا کریں تو خیرمقدم کریں گے۔
پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمان ملک میں جاری سیاسی تناؤ اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مثبت اور مؤثر کردار ادا کرتے ہیں تو ان کے کردار کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
پی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کو اس وقت محاذ آرائی کے بجائے سیاسی بصیرت، تحمل، سنجیدہ اور بامعنی اقدامات اور مذاکرات کی اشد ضرورت ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کرنا خوش آئند ہوگا اور تحریک انصاف ایسے کردار کا خیرمقدم کرے گی۔
پارٹی کے مطابق موجودہ سیاسی حالات میں تناؤ اور محاذ آرائی کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششوں اور بامقصد مذاکرات کی ضرورت ہے۔
پی ٹی آئی نے اپنے بیان میں سیاسی مسائل کے حل کے لیے تحمل اور سیاسی بصیرت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات
وزیراعظم شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات جاری ہے، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتِ حال اور سیاسی کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو ملاقات کے لیے مدعو کیا تھا۔ ملاقات کے آغاز پر وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کا خیرمقدم کیا اور انہیں عمرے کی ادائیگی پر مبارک باد دی۔
مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی قیادت کو اعتماد میں لیا
جمعیت علمائے اسلام کے ترجمان اسلم غوری کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم سے ملاقات کے لیے روانگی سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کو بھی اعتماد میں لیا۔
اسلم غوری نے بتایا کہ وزیراعظم سے ملاقات کے لیے آنے والے وفد میں سینیٹر مولانا عطاء الحق درویش، مولانا لطف الرحمان اور کامران مرتضیٰ بھی شامل ہیں۔
ملاقات میں ملکی سیاسی صورتِ حال پر گفتگو ہو گی
ترجمان جے یو آئی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات میں ملکی سیاسی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے اور مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ صدر ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے پر غور کیا گیا ہے، اسی سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کر لیا ہے اور صدر ہاؤس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس 13 اکتوبر کو علیحدہ علیحدہ بلانے پر اتفاق بھی کیا گیا ہے۔



