پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 4 اکتوبر 2026 سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کے شرکا چارسدہ تک پہنچ گئے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے قافلوں کو کل صوابی پہنچنے کی ہدایت کردی۔
شبقدر ۔چارسدہ
انقلاب دستک دے رہا https://t.co/kwigER4mJT— Shafi Jan (@ShafiJanPTI) October 9, 2026
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نےشبقدر چوک چارسدہ میں خطاب کرتے ہوئے کارکنوں کو 11 اکتوبر کو پورے پاکستان سے صوابی انٹرچینج پہنچنے کی دعوت دی۔
گزشتہ روز ہی گورنر خیبرپختونخوا نے صوابی کی جانب مارچ کرنے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ “یہ صوابی کی طرف منہ تو کریں، انہیں لگ پتا جائے گا۔”
یاد رہے کہ لانگ مارچ ملتوی کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے پی ٹی آئی کے ساتھ 2 اور 3 اکتوبر کو مذاکرات کے متعدد ادوار ہوئے تاہم فریقین کے مابین معاہدے پر اتفاق رائے نہ ہو سکا، جس پر پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی سمیت متعدد دیگر مطالبات کے حق میں لکی مروت سے لانگ مارچ شروع کیا تھا۔
لکی مروت سے قافلے کرک، کوہاٹ، متنی،خیبراور پشاور سے ہوتے ہوئے چارسدہ پہنچے جس کے بعد شرکا مردان، صوابی اور ملاکنڈ کی طرف روانہ ہونگے۔
گزشتہ شب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے چارسدہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت 2018 سے 2022 تک خیبرپختونخوا میں امن اور خوشحالی تھی، پاکستان کے تمام معاشی اشاریے مثبت تھے۔
گزشتہ رات اپنی تقریر میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنی ہی عوام کے خلاف یکطرفہ طور پر فوجی آپریشنز شروع کرنے کے تباہ کن نتائج پر بات کرتے ہوئے بلوچستان کی صورتحال کی مثال دی، جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کی کتاب کا حوالہ بھی دیا۔
“میرے پاکستانیو 1970 کی دھائی میں پہلا ملٹری آپریشن بلوچستان میں ہوا جب ذولفقار علی بھٹو کی حکومت تھی تب کہا گیا ہم ملٹری آپریشن سے بلوچستان میں امن لائیں گے پچاس سال ہوگئے امن نہیں آیا یہ ذولفقار علی بھٹو اپنی کتاب میں لکھتا ہے آپریشن کے وقت وہاں سے سویلین کو سائیڈ پر کیا گیا وہاں کے وسائل سمیت سب کچھ ملٹری کے ہاتھ میں آگیا یہ سہیل آفریدی نہیں کہہ رہا یہ عمران خان نہیں کہہ رہا یہ جو گورنر راج لگانے پر تُلا ہوا ہے اس کا لیڈر کہہ رہا ہے”۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی
— PTI (@PTIofficial) October 10, 2026
سہیل آفریدی نے کہا کہ حقیقی قیادت وہ ہوتی ہے جو عوام کی بہتری اور خوشحالی کے لیے کام کرے۔ بند کمروں میں فیصلے کرکے رجیم چینج آپریشن کے ذریعے پاکستان کی ترقی کا سفر روک دیا گیا، بیرونی سازش کاروں اور اندرونی غداروں نے مل کر پاکستان کو ترقی کے راستے سے ہٹایا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے سابقہ چار سالہ حکومتی کارکردگی اور رجیم چینج آپریشن کے اثرات عوام کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں غربت کی شرح 48 فیصد تک پہنچ چکی ہے،گورننس انڈیکس میں 120 ممالک میں پاکستان کا نمبر 109 ہے۔
سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ کم ہوکر 2.2 فیصد رہ گئی ہے، مہنگائی کی شرح 80 فیصد تک پہنچ گئی ہے، افغانستان کو ناتجربہ کار کہنے والے جان لیں کہ وہاں مہنگائی کی شرح صرف 16 فیصد ہے، رجیم چینج آپریشن کے بعد پاکستان کے تمام معاشی اشاریے منفی سمت میں جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ لانگ مارچ کے دوسرے دن وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو پیشکش کی تھی کہ اگر پارٹی اپنا احتجاج ختم کر دے تو حکومت دوبارہ مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے۔تاہم اس ‘آفر’ کے جواب میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات سے انکاری نہیں ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ مذاکرات ‘غیر مشروط’ ہوں۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی، ایمرجنسی پلس یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق اہم فیصلے کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں آج اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق اجلاس میں تمام متعلقہ شراکت دار شرکت کریں گے اور صوبے کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تیاری کر لی گئی ہے جبکہ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے واضح کیا ہے کہ پی ٹی آئی اور وزیراعلیٰ دہشتگردی کیخلاف وفاق کیساتھ ہونے کی بات کریں تو معاملات بہتر ہوسکتے ہیں۔
اسی تناظر میں جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ ایمرجنسی کے حوالے سے غور و خوض مکمل ہو گیا ہے، ایمرجنسی 12 اضلاع میں نہیں، پورے صوبے میں لگے گی۔



