وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کے لیے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے 11 اکتوبر کو ملک بھر سے قافلوں کو صوابی پہنچنے کی ہدایت کر دی ہے۔
اعلان کے مطابق 11 اکتوبر کو پاکستان کے مختلف علاقوں سے تحریک انصاف کے قافلے صوابی پہنچیں گے، جبکہ 13 اکتوبر کو پشاور ڈویژن، ملاکنڈ ڈویژن، کوہاٹ اور کرک ڈویژن کے قافلے براہ راست صوابی انٹرچینج پہنچیں گے۔
ہزارہ ریجن کے کارکنوں کو بھی 13 اکتوبر کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان کارکنوں کو آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق بعد میں آگاہ کیا جائے گا۔
اعلان کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں ڈویژن کے قافلے سی پیک روٹ کے ذریعے آئیں گے اور لانگ مارچ میں شامل ہوں گے۔
سہیل آفریدی 13 اکتوبر کو صوابی انٹرچینج پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے لانگ مارچ کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
سہیل آفریدی کا لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کے لیے لائحہ عمل کا اعلان
11 اکتوبر کو پورے پاکستان سے قافلے صوابی پہنچیں۔
13 اکتوبر کو پشاور ڈویژن، ملاکنڈ ڈویژن، کرک اور کوہاٹ ڈویژن کے قافلے براہِ راست صوابی انٹرچینج پہنچیں۔
ہزارہ ریجن کے کارکنان بھی 13 اکتوبر کو تیار رہیں، جنہیں آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا جائے گا۔
ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں ڈویژن کے قافلے سی پیک کے راستے آئیں گے اور مارچ میں شامل ہوں گے۔
سہیل آفریدی 13 اکتوبر کو صوابی انٹرچینج پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
— Atta ur Rehman Kohistani (@atta__kohistani) October 9, 2026
تحریک انصاف کی جانب سے قافلوں کو مختلف ڈویژنوں سے صوابی پہنچانے کے اعلان کے بعد 13 اکتوبر کو ہونے والے اجتماع کو مارچ کے اگلے مرحلے کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم، اسلام آباد کی جانب پیش قدمی، مارچ کے حتمی راستے اور آئندہ احتجاجی حکمت عملی سے متعلق تفصیلات سہیل آفریدی کے آئندہ اعلان کے بعد واضح ہوں گی۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا 4 اکتوبر سے شروع ہونے والا لانگ مارچ لکی مروت، کرک، کوہاٹ، متنی اور خیبر سے ہوتا ہوا رات گئے صوبائی دارالحکومت پشاور پہنچا۔
📍 کبوتر چوک پشاور
#سر_بکف_میدان_میں https://t.co/acsmeKEnvE
— Shafi Jan (@ShafiJanPTI) October 8, 2026
لانگ مارچ ملتوی کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے پی ٹی آئی کے ساتھ 2 اور 3 اکتوبر کو مذاکرات کے متعدد ادوار ہوئے تاہم فریقین کے مابین معاہدے پر اتفاق رائے نہ ہو سکا، جس پر پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی سمیت متعدد دیگر مطالبات کے حق میں 4 اکتوبر اتوار سے لانگ مارچ شروع کیا تھا۔
لکی مروت سے قافلہ کرک، کوہاٹ اور پھر متنی سے ہوتا ہوا خیبر پہنچا جہاں ڈی ٹور روڈ پر پڑاؤ ڈالا گیا۔ ابتدائی منصوبے کے مطابق قافلے نے کوہاٹ سے براہ راست پشاور جانا تھا اور رات متنی کے قریب قیام کرنا تھا تاہم پی ٹی آئی نے منگل کو مارچ کا روٹ تبدیل کر دیا۔
نئے پلان کے مطابق لانگ مارچ اب پشاورکبوتر چوک پر پہنچ گیا جہاں سے یہ لانگ مارچ اب چارسدہ ، پھر مردان، صوابی اور ملاکنڈ کی طرف روانہ ہو گا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے قافلے کا شیڈول بھی جاری کر دیا گیا ہے،شیڈول کے مطابق سہیل آفریدی کا قافلہ آج دوپہر شبقدر پہنچے گا جس کے بعد شام 5 بجے چارسدہ پہنچے گا۔ لانگ مارچ کے شرکاء رات چارسدہ میں ہی قیام کریں گے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کل دوپہر 2 بجے فاروق اعظم چوک چارسدہ میں جلسے سے خطاب کریں گے۔
لانگ مارچ کے باعث پشاور میں نجی اور سرکاری اسکولز جزوی طور بند ہیں۔ محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق جن علاقوں سے لانگ مارچ گزرے گا وہاں سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اسکولز بند کیے گئے ہیں جبکہ قافلے کے روٹ سے باہر تمام اسکولز معمول کے مطابق کھلے ہیں۔اس سے قبل پشاور، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کے تعلیمی بورڈز نے لانگ مارچ کے باعث امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس کےعلاوہ پشاور کے مختلف علاقوں میں گزشتہ رات سے موبائل فون سروس بھی جزوی طور پر معطل ہے۔اندرون شہر سمیت نواحی علاقوں میں موبائل فون سروس بندش سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، صارفین کے مطابق اس وقت پوش علاقے حیات آباد، رنگ روڈ حیات آباد ٹول پلازہ، بھانہ ماڑی، کوہاٹی چوک سرکلر رو ڈ اور اندرون شہر کے مختلف علاقوں میں موبائل اور انٹر نیٹ سروس معطل ہے۔
ٹیسٹ میچ ہے خود کو تھکانا نہیں، سہیل آفریدی
پشاور کے کبوتر چوک پر لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ کارکنوں کے جوش و جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ابھی یہ ٹیسٹ میچ ہے خود کو تھکانا نہیں ہے، اس کے بعد ون ڈے میچ اور پھر ٹی ٹوئنٹی بھی ہوگا،ابھی دیکھو پاکستانی قوم سپرسکس کا بھی مارچ کر رہے ہیں، ہم آپ کی خاطر سپر سکس بھی کھیلیں گے۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ اڈیالہ جیل انتظامیہ کی وجہ سے عمران خان کی صحت خراب ہے ،ہم ان تمام لوگوں کو خبردار کر رہے ہیں کہ اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو آپ سب کو(حکومت) ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔
انہوں کے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یاد رکھنا جس عمران خان کو آپ نے ووٹ دیا ہے میں اس کا نمائندہ، اس کا کھلاڑی ہوں۔ نہ یہ میرے لیڈر کو جھکا پائے اور نہ مجھے ڈرا پائیں گے انشااللہ۔
عمر ایوب کا 4 رہنماؤں اور کارکنوں کو اغوا کیے جانے کا دعویٰ
دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر عمر ایوب نے خیبرپختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 4 رہنماؤں اور کارکنوں کو مختلف مقامات سے اغوا کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے ۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نامعلوم افراد نے مختلف مقامات پر کارروائیاں کرتے ہوئے بعض افراد کو ان کے گھروں، اسپتال اور پشاور کے جوڈیشل کمپلیکس کے باہر سے اغوا کیا۔
In the last 24 hours ‘unknown’ people have attacked the homes or abducted the following in broad day light or late at night from various places of KPK.
KPK Police and Provincial LEAs appear either totally helpless or completely complicit.
Their target is CM KPK Sohail Afridi, PTI and the Long March.
1. Dr Amjad Ali. Minister and MPA (abducted from his house at night. House ransacked).
2. Abdul Salam Afridi MPA (abducted in broad day light from outside his house).
3. Dr. Nabi Jan. President Insaaf Doctor’s Forum (abducted from the hospital. The ‘unknowns’ fired at doctors and injured 2).
4. Sharif Zaman Former Chairman Village Council & PTI Activist (abducted in the afternoon from outside the Judicial Complex Peshawar).
@PTIofficial— Omar Ayub Khan (@OmarAyubKhan) October 9, 2026
بیان میں خیبرپختونخوا پولیس اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ادارے یا تو مکمل طور پر بے بس دکھائی دیتے ہیں یا ان کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
بیان کے مطابق وزیر اور رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر امجد علی کو رات کے وقت ان کے گھر سے اغوا کیا گیا جبکہ گھر میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی کو بھی مبینہ طور پر دن دہاڑے ان کے گھر کے باہر سے اغوا کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔
سابق وفاقی وزیر کی جانب سے انصاف ڈاکٹرز فورم کے صدر ڈاکٹر نبی جان کو بھی اسپتال سے اغوا کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نامعلوم افراد نے ڈاکٹروں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2 ڈاکٹر زخمی ہوگئے۔
عمر ایوب کے مطابق سابق چیئرمین ویلج کونسل اور پی ٹی آئی کارکن شریف زمان کو مبینہ طور پر سہ پہر کے وقت پشاور کے جوڈیشل کمپلیکس کے باہر سے اغوا کیا گیا۔بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کا ہدف خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، پاکستان تحریک انصاف اور لانگ مارچ ہیں۔
یاد رہے کہ لانگ مارچ کے دوسرے دن وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو پیشکش کی تھی کہ اگر پارٹی اپنا احتجاج ختم کر دے تو حکومت دوبارہ مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے۔تاہم اس ’آفر‘ کے جواب میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات سے انکاری نہیں ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ مذاکرات ’غیر مشروط‘ ہوں۔


