پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم کی جانب سے ‘مشروط’ مذاکرات کی پیشکش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مذاکرات سے انکاری نہیں ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ مذاکرات ‘غیر مشروط’ ہوں۔
ُپارٹی اور حکومت کے درمیان 2 اور 3 اکتوبر کو ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہے جس کے بعد خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے 4 اکتوبر کو لکی مروت سے اسلام آباد کی طرف اپنے مطالبات کے حق میں لانگ مارچ کا آغاز کیا۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارا لانگ مارچ اگر اسلام آباد بھی پہنچے گا تو بات چیت تو پھر بھی کرنا ہو گی، مطالبات تو پھر بھی منوانے ہوں گے، اس لیے مطالبات پر پیشرفت ہونی چاہیے۔ یہ مذاکرات کسی دشمن سے نہیں بلکہ دو سیاسی حریفوں کے درمیان تھے اور ان مذاکرات کے اسٹیک ہولڈرز پاکستان کے عوام ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ مذاکرات میں ہمارے ساتھ تھے، ان سے پوچھیں کہ انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہم نے کیا کچھ نہیں کیا، یہ آسان کام نہیں تھا اور معاملات ایک رات میں طے نہیں ہوتے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مذاکرات میں جو ہٹ دھرمی دکھائی گئی یہ افسوسناک ہے ہم تو بیٹھے رہے لیکن باہر آکر جو بیانات کا سلسلہ شروع ہوا اس سے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ میں نے پہلے کہا تھا کہ ملک او جمہوریت کے لیے ان مذاکرات کا کامیاب ہونا بڑا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے حالات بہت گھمبیر ہیں اور صوبہ کسی غیر آئینی اقدام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جبکہ گورنر راج اور ایمرجنسی نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے مطالبات بہت سادہ تھے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے ساتھ ہماری اور فیملی کی ملاقات ہو اور ڈاکٹروں کی ان تک رسائی ہو، جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ان کی رہائی کا مطالبہ بھی ہم نے کیا تھا۔
بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کی پیشکش پر کہا کہ وزیراعظم نے مذاکرات کی مشروط پیشکش کی ہے۔ اس سے قبل جب ہمیں اندازہ ہوا تھا کہ ایسی چیزیں ہونے والی ہیں تو ہم نے ان کی پیشکش سے پہلے ہی کیمٹی بنائی اور فیصلہ کیا کہ اگر حکومت ہمارے ساتھ بیٹھتی ہے تو غیر مشروط بیٹھے اگر پہلے سے کہا جائے کہ یہ کر دو وہ کر دو تو ایسا نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات میں غیر مشروط بات چیت کرنا پڑتی ہے اور بات چیت تب تک جاری رکھنا پڑی ہے جب تک مسئلے کا حل نہیں نکلتا، یہ کوئی اسکول کے بچوں کے پیپرز تو نہیں ہیں کہ دو دن بیٹھیں گے اور ٹائم ختم ہو گیا، یہ سیاسی معاملات ہیں جس میں دس دس بیس بیس مرتبہ لوگ جاتے ہیں بات چیت کرتے اور دستاویزات کا تبادلہ کرتے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کی آج پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا ٹاک https://t.co/91oXGBK4YU
— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) October 7, 2026
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اسلام آباد ہمارا ہے اور لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گا۔ یہ پشاور سے خیبر اور خیبر سے پیرودھائی تک آئے گا جبکہ میں اور علامہ ناصر عباس لانگ مارچ میں شرکت کے لیے جائیں گے جہاں ہماری سہیل آفریدی سے ملاقات ہو گی تاہم محمود خان اچکزئی یہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان بڑے لیڈر ہیں وہ مائنس ہو ہی نہیں سکتے، اور مذاکرات کی ناکامی کے نتائج ہوتے ہیں اس لیے اس کو سنجیدہ لینا چاہیے۔ میری رات کو وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات نہیں ہوئی اور میں علامہ راجا ناصر عباس سے ملاقات کے لیے آیا تھا، جہاں آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر ایمل ولی کو بھی دعوت دوں گا کہ ہمارے ساتھ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شامل ہوں، جو جلد ہو گی۔
عمران خان کے لیے لندن سے آنے والے ڈاکٹر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کو دیکھنے کے لیے جس ڈاکٹر کو بلایا گیا تھا وہ لندن سے اسپیشلی نہیں آئے تھے بلکہ وہ لندن اور لاہور دونوں جگہ ہوتے ہیں۔ وہ اگست میں آئے تھے اور عمران خان کا معائنہ کیا تھا۔ جس کے بارے میں مجھے بتایا گیا تھا اور میں نے بانی پی ٹی آئی کی فیملی اور پارٹی کو اس سے متعلق آگاہ کیا تھا۔
بعد ازاں ایبٹ آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، اور مطالبات تسلیم کیے جائیں تو لانگ مارچ ختم ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا کردار بڑا ہونا چاہیے وہ ہمیں دھمکی نہ دیں بلکہ گلے لگائیں، پرامن لانگ مارچ جاری رہے گا اور جلد اسلام آباد پہنچیں گے، مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکلنا چاہیے تاہم وہ بامقصد ہوں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے گورنر راج سے متعلق کہا کہ صوبے میں غیر اعلانیہ گورنر راج ہے، اور گورنر نے اجلاس طلب کر کے غیر آئینی کام کیا۔ سہیل آفریدی منتخب وزیراعلیٰ ہیں اس لیے صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نہیں لگائی جا سکتی، جبکہ صوبے کے حوالے سے فیصلہ اسی صوبے کی پارلیمان کرے۔
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ اسلام آباد میں داخل ہوگا تو ہاتھوں میں پاکستان کے جھنڈے ہوں گے۔



