وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات میں فی الحال کسی بڑے بریک تھرو کی زیادہ امید نہیں تاہم حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان صورتحال اتنی پیچیدہ بھی نہیں کہ بات چیت کا راستہ مکمل طور پر بند ہوجائے۔
ہم نیوز کے پروگرام “ہم دیکھیں گے” میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات ختم ہونے کے بعد بھی رابطے موجود رہے ہیں، محسن نقوی کے پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطے ہیں جبکہ گوہر خان، عامر ڈوگر اور اسد قیصر سے بھی فون پر بات چیت ہوتی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا اپنا سیاسی مؤقف ہے اور حکومت کا اپنا موقف، تاہم کسی سمجھوتے یا انڈراسٹینڈنگ کے بغیر مذاکرات دوبارہ شروع کرنا زیادہ مفید نہیں ہوگا۔ اگر کسی معاملے پر انڈراسٹینڈنگ بن جائے تو مذاکرات دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔
‘لانگ مارچ الگ معاملہ ہے، رانا ثنا اللہ’
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت ایک طرف مذاکرات کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے تو دوسری جانب پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی صورتحال بھی دیکھ رہی ہے۔
ان کے مطابق لانگ مارچ کے پہلے دو دنوں کی صورتحال سے آئندہ کے حالات کا کافی اندازہ ہوگیا ہے۔ لکی مروت سے مارچ میں تقریباً 6 سے 8 ہزار افراد تھے، جبکہ اس کے بعد شرکا کی تعداد میں 2 سے 3 ہزار سے زیادہ اضافہ نہیں ہوا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے جلسوں میں بھی عموماً 5 سے 8 ہزار افراد آتے ہیں اور جلسہ ختم ہونے کے بعد صرف 500 سے ایک ہزار افراد رہ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں پی ٹی آئی کی جانب سے 20 لاکھ اور 40 لاکھ افراد کے دعوے کیے گئے، لیکن وہ پورے نہیں ہوئے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ کرنے والوں کو قانون کے مطابق روکا جاسکتا ہے اور لانگ مارچ کا معاملہ مذاکرات سے بالکل الگ ہے۔
‘دہشت گردی پر صوبائی حکومت کو کردار ادا کرنا ہوگا’
وزیراعظم کے مشیر نے خیبر پختونخوا حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کی کامیابی کے لیے صوبائی حکومت کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ان کے مطابق اگر صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرے تو بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ آپریشن کی کامیابی کے لیے صوبائی حکومت کا تعاون ضروری ہے، کیونکہ پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر سول انتظامات صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیوں کو کامیاب بنانے کے لیے صوبائی حکومت کو واضح کمٹمنٹ دینی چاہیے۔ اگر صوبائی حکومت اپنا کردار ادا نہیں کرتی تو وفاقی حکومت کو قدم آگے بڑھانا پڑے گا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دہشت گردی کسی ایک شخص یا جماعت کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اور دہشت گردوں کے مطالبات پاکستان کو توڑنے کے مترادف ہیں۔
ان کے بقول دہشت گرد خیبر پختونخوا کے بڑے حصے پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، ایسے عناصر کے ساتھ بیٹھ کر کیسے بات کی جاسکتی ہے؟ دہشت گرد براہ راست پاکستان کے دشمن ہیں اور ملک کو توڑنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد نہ ملاقات چاہتے ہیں، نہ علاج، نہ مقدمات اور نہ انتخابات، اس لیے دہشت گردی کے معاملے کو سیاسی معاملات سے الگ رکھنا ہوگا۔
محمود اچکزئی سے وزیراعظم کی ملاقات کا معاملہ
محمود اچکزئی کے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات سے انکار کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ طرز عمل مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں محمود اچکزئی کو ملاقات کی دعوت دی تھی، جس کے جواب میں محمود اچکزئی نے وزیراعظم کو خط لکھنے کا کہا۔ خط لکھے جانے کے بعد بھی انہوں نے وزیراعظم سے گھر پر ملاقات سے انکار کردیا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ محمود اچکزئی کا وزیراعظم شہباز شریف کو وزیراعظم نہ ماننا مناسب نہیں، سیاسی رہنماؤں کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر محمود اچکزئی نواز شریف سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں، تاہم وزیراعظم کو ان کے خط کا جواب دینا چاہیے اور ملاقات کے لیے وقت مقرر کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق وزیراعظم سے ملاقات محمود اچکزئی کی آئینی ذمہ داری ہے اور ایسی ملاقات میں آئینی معاملات پر بات ہونی چاہیے۔ یہ نہ محمود اچکزئی کا ذاتی مسئلہ ہے نہ شہباز شریف کا۔
‘سیاسی کمیٹی کے قیام پر اتفاق ہوا تھا’
رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ حکومت نے سیاسی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا تھا، جس کا مقصد تمام مسائل کو ایک پلیٹ فارم پر بیٹھ کر حل کرنا تھا۔
ان کے مطابق دہشت گردی کے معاملے پر بھی پی ٹی آئی کو اس طرح کا مؤقف اختیار نہ کرنے کا کہا گیا تھا۔ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ سول انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے پولیس اور سی ٹی ڈی مؤثر انداز میں موجود نہیں، اس لیے صوبائی حکومت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔
بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا معاملہ
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کے علاج کے معاملات پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ امور قانون اور جیل مینوئل کے مطابق طے ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں شروع کرنے کے لیے منگل کا وقت دیا گیا تھا، تاہم ملاقاتوں کو سیاسی طور پر استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
ان کے مطابق ملاقاتوں کا سیاسی استعمال ہی بعد میں مسئلے کا سبب بنا۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں سمیت تمام معاملات پر مکمل بات چیت ہوئی تھی اور یہ اتفاق بھی ہوا تھا کہ اگر کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو بات چیت کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اس معاملے میں مناسب فیصلہ نہیں کیا۔
“سب کو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے”
وزیراعظم کے مشیر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو غیر ملکی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمن ملک نے پاکستان پر جنگ مسلط کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر سب کو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق باقی تمام معاملات حکومت کے ساتھ حل ہوگئے تھے اور اگر دوبارہ کوئی مسئلہ پیدا ہوتا تو بات چیت کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا جاتا، لیکن دہشت گردی کے معاملے پر قومی مفاد کو مقدم رکھنا ہوگا۔



