پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ عدلیہ، پارلیمان اور اسمبلی پر لوگوں کا اعتماد اٹھ چکا ہے، اگر نظام اسی طرح چلانا ہے تو واقعی وقت آگیا ہے کہ اسے ری سیٹ کرنے پر غور کیا جائے۔
چند دن قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں نظام کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت پر بات کر چکے ہیں۔
چارسدہ میں صوبائی وزیرعبدالشکور کے گھر پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہرنے کہا کہ وہ صوبائی وزیرکواٹھایا گیا ہے جوانتہائی افسوسناک بات ہے، آج 18 واں دن ہے لیکن ان کے اہلخانہ کو معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں، ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا گیا تاہم عدالتوں میں ہفتے ہفتے کی تاریخیں ملتی ہیں۔
دوسری جانب وفاقی وزرا کا مؤقف ہے کہ حکومت نے صوبائی وزیر یا کسی ایم این ایز یا ایم پی ایز کو نہیں اٹھایا، وہ خود روپوش ہیں اور احتجاج میں شرکت نہیں کرنا چاہتے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہر پاکستانی اور ہرصوبے کے وزیراعلیٰ کو سوچنا چاہیے کہ اگر آج یہ خیبرپختونخوا میں ہو رہا ہے تو کل سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں بھی ہو سکتا ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے، قانون کی بالادستی ہونی چاہیے اور جبری گمشدگیاں ختم ہونی چاہئیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیوں سے عوام کا پورے نظام پر اعتماد اٹھ گیا ہے، لوگوں کا اعتماد عدلیہ، پارلیمان اور اسمبلی سے اٹھ گیا ہے، اگراسی طرح چلنا ہے تو واقعی یہ وقت ہے کہ نظام کو ری سیٹ کرنے کے بارے میں سوچا جائے۔
انہوں نے کہا کہ نظام کو ری سیٹ کرنے کیلئے انا کو جانے دینا ہوگا اورعوام کی منشا کے مطابق آگے بڑھنا ہوگا، عوام کو ہی پورا نظام ری سیٹ کرنے کا اختیارملنا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ملک میں انارکی کی طرف معاملات نہ جائیں بلکہ بہتری کی طرف بڑھیں، جمہوریت ڈی ریل نہ ہو، عوام اپنے جذبات اوراحساسات کا پرامن اظہار کریں توایسا کوئی اقدام نہیں ہونا چاہیے جس سے پورا نظام ہی الٹ پلٹ ہوجائے۔
انہوں نے حکومت پرزوردیا کہ بڑی ایمانداری، خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ بغیرکسی شرط کے مذاکرات کی میز پر بیٹھا جائے۔
بیرسٹر گوہرنے کہا کہ ہم نے ملک، قوم اور جمہوریت کی خاطر دودن مذاکرات کیے لیکن اچانک سب کچھ ختم ہوگیا، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، اب بھی وقت ہے کہ قوم اوراقتدارمیں موجود لوگ اس معاملے کو دیکھیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی گاڑیاں کچے میں پھنسی ہوئی ہیں، سوال یہ ہے کہ اس گاڑی کو کچے سے نکال کر موٹروے پر کیسے لایا جائے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ہم بھی آواز دے رہے ہیں اوروہ بھی آواز دے رہے ہیں کہ ہمیں موٹروے پر آنے دیا جائے، لیکن کہا جاتا ہے کہ شاید اس وقت ٹریفک مصروف ہے یہ کام اب ختم ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کی گاڑی موٹروے پر چڑھنی چاہیے اور جمہوریت کی پٹڑی پر عوام کو چلنا چاہیے، نظام کو ڈی ریل ہونے سے بچانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انا کو جانے دیا جائے اور کامن سینس کو غالب آنے دیا جائے۔
بیرسٹر گوہرنے کہا کہ جبری گمشدگیاں ختم ہونی چاہئیں، بانی پی ٹی آئی کی بہنیں اس وقت جیل میں ہیں، ان کے کزن کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی جیل میں ہیں۔
انہوں نے بشریٰ بی بی کی طبیعت سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رات کو خبر چلی کہ بشریٰ بی بی کی طبیعت ٹھیک نہیں، ہم سب کو تشویش ہے، ان کی طبیعت کے بارے میں ہمیں بتایا جائے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کسی مسئلے کا حل نہیں، ایسے اقدامات سے پہلے ہی تشویش میں مبتلا خیبرپختونخوا کے عوام میں مزید تناؤ، دوری اور نفرت پیدا ہوگی، ملک کو انارکی کی طرف جانے سے روکنے کیلئے انا کوایک طرف رکھ کر مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کی طرف بڑھنا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمٰن کے کردار کا خیرمقدم
صحافی کے سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہماری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن ہمارے ساتھ اتحاد اور الائنس میں ہوں، انہیں اتحاد میں لانے کیلئے بڑی کوشش کی گئی لیکن بدقسمتی سے وہ ہمارے ساتھ الائنس میں نہیں ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی طرف حکومتی وفد جا چکا ہے، امید ہے مولانا فضل الرحمٰن اچھا کردار ادا کریں گے، مولانا فضل الرحمٰن اپنا کردارادا کرسکتے ہیں اوراگروہ اپنا کردارادا کریں گے تو میں ان کا مشکور ہوں گا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے بھی کہا تھا کہ وہ کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، میں ان کا بھی مشکور ہوں، انہیں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں، چاہے اقتدار میں ہوں یا اپوزیشن میں، چاہے انتخابات میں حصہ لیتی ہوں یا نہیں، جمہوریت، آزاد عدلیہ اور آزاد انتخابات سب کی خواہش ہیں، انصاف کیلئے ہم لڑ رہے ہیں تو سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
اے این پی، جماعت اسلامی اور مولانا کا شکریہ
ایمرجنسی اور گورنر راج کے حوالے سے سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وہ جماعت اسلامی اور اے این پی کے مشکور ہیں، خصوصاً ایمل ولی خان کے مشکور ہیں کہ انہوں نے ایمرجنسی اور گورنر راج کی مخالفت کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایمل ولی خان سے ملاقات کیلئے آج اسلام آباد میں وقت طے ہوا تھا تاہم ان کی کچھ مصروفیات کے باعث ملاقات نہیں ہوسکی، ایک دو دن میں ملاقات ہوگی اور انہیں باضابطہ طور پر دعوت دی جائے گی کہ وہ ایپکس کمیٹی میں شامل ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اور مولانا فضل الرحمٰن نے بھی ایمرجنسی اور گورنر راج کی مخالفت کی ہے، اس وقت کے حالات میں تمام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ مسئلے کا حل ایمرجنسی اور گورنر راج نہیں ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک جمہوری جماعت ہے، ہماری سیاسی کمیٹی، قانونی کمیٹی اور کور کمیٹی موجود ہیں، ہم روزانہ کی بنیاد پر مشاورت کرتے ہیں اور اجلاس بھی کرتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ خیبرپختونخوا پہلے ہی ایک انتہائی سنگین صورتحال سے گزر رہا ہے، اختیارات نام کی کوئی چیز نہیں، ان کے بقول صوبے میں پہلے ہی غیر اعلانیہ گورنر راج ہے۔
دہشت گردی کے الزامات مسترد
پی ٹی آئی کے دہشت گردوں کی حمایت سے متعلق بیانیے پر بیرسٹر گوہر نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف، پارٹی کارکنوں، سپورٹرز یا وزیراعلیٰ نے کبھی دہشت گردی کی مدد نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کیا جائے، خیبرپختونخوا، بلوچستان یا سندھ میں کہیں بھی دہشت گردی ہوتی ہے تو وہ پاکستان کی دہشت گردی ہے، جو مرتا یا شہید ہوتا ہے وہ ہمارے لوگ اور ہمارے شہداء ہیں، چاہے وہ پختون ہو، پنجابی ہو یا بلوچی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر کوئی وزیر یہ کہتا ہے کہ اسلام آباد آنے والوں کو دہشت گردوں کی طرح ٹریٹ کیا جائے گا تو ایسے بیانات نہیں ہونے چاہئیں، خاص طور پر ایسے وزیر کی جانب سے جو وزیراعظم کا سیاسی امور کا مشیر ہونے کا دعویٰ کرتا ہو۔
تمام صوبوں کیلئے یکساں پالیسی کا مطالبہ
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف تمام صوبوں کیلئے ایک پالیسی بنائی جائے اور نیشنل ایکشن پلان کے مطابق اقدامات کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ شروع ہونے سے پہلے وفاقی حکومت نے کبھی یہ نہیں کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف اقدامات نہیں کررہی، اگراقدامات نہیں ہورہے تو کیا اس کا حل گورنر راج اور ایمرجنسی ہے؟
انہوں نے کہا کہ گورنرراج یا ایمرجنسی محدود مدت کیلئے ہوتی ہے، ایک، دو یا تین ماہ میں دہشت گردی کی جنگ ختم نہیں ہوسکتی، امریکہ بھی کئی سال میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم نہیں کرسکا۔
بیرسٹرگوہر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کیلئے پالیسی کی ضرورت ہے، ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں تمام بڑے لوگ بیٹھتے ہیں، وہاں بات کرکے اقدامات کرنے، فیصلے کرنے اوران پرعمل درآمد کی ضرورت ہے، ایک دوسرے کے خلاف بیانات اورپریس کانفرنسیں مسئلے کا حل نہیں۔
لانگ مارچ کے روٹ پر بیرسٹر گوہر کا مؤقف
لانگ مارچ کا روٹ تبدیل ہونے اور دفعہ 144 کے نفاذ سے متعلق سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ لانگ مارچ اپنے مقام کی طرف بڑھ رہا ہے، آج پشاور، کل چارسدہ، 10 تاریخ کو مردان اور 11 اکتوبر کو صوابی پہنچے گا، اس کے بعد نیا لائحہ عمل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگلا لائحہ عمل وزیراعلیٰ کے پاس ہے، وزیراعلیٰ کو آگے کا لائحہ عمل دینا ہے، بانی پی ٹی آئی کی ہدایت یا پارٹی کی جو بھی سمت تھی، وزیراعلیٰ نے جس طریقے سے اعلان کیا تھا اسے جاری رکھیں گے۔
دفعہ 144 کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دفعہ 144 کا نفاذ ہوتا جارہا ہے، تبھی وہ کہتے ہیں کہ رٹ کسی اور کا چل رہا ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے، رٹ عوام کی اور عوامی نمائندوں کی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ کے ساتھ کابینہ، کابینہ کے ساتھ اسمبلی اور اسمبلی میں ارکان موجود ہوں لیکن کسی ایم این اے یا ایم پی اے کے ساتھ ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر تعاون نہ کریں تو امن کیسے بحال کیا جاسکتا ہے اور علاقے میں بہتری کے کام کیسے کیے جاسکتے ہیں؟
گورنر کے آئینی کردار پر سوال
گورنر کی اجلاس سے متعلق سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آئین میں گورنر کے کردار کا تعین موجود ہے، 18ویں ترمیم کے بعد گورنر کا کردار ایک آئینی اور رسمی عہدے کے طور پر متعین ہے جبکہ صوبے کا چیف ایگزیکٹو وزیراعلیٰ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین اور رولز آف بزنس میں گورنر کا کردار متعین ہے، ہونا یہ چاہیے کہ تمام متعلقہ ادارے آپس میں رابطہ اور کوآرڈینیشن کریں، گورنر کے پاس امن و امان کی صورتحال پر براہ راست ہدایات دینے کا اختیار نہیں، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
دہشت گردی کی پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ
رانا ثناء اللہ کے اس بیان پر کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی 40 سال سے جاری ہے اور اسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ “ون سائز فٹس آل” پالیسی ہر جگہ لاگو نہیں ہوسکتی، وفاقی حکومت کو وقت کے ساتھ پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے بھی اپنے طریقے تبدیل کیے ہیں، وہ زیادہ اسمارٹ ہوگئے ہیں، ان کے پاس ٹیکنالوجی آگئی ہے اور دہشت گردی کی نوعیت بھی تبدیل ہوئی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مختلف نوعیت کے عناصر موجود ہیں، کچھ بھارت کے پراکسی ہیں، کچھ افغانستان کے پراکسی ہیں جبکہ کچھ پاکستان میں موجود عناصر ہیں، اس لیے خیبرپختونخوا ایک حساس معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں پہلے بھی بڑے پیمانے پر آپریشن ہوتے رہے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر دھماکے اور دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے ہیں، اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی ہونی چاہیے۔


