وفاقی آئینی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق کیس کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو فوری عہدے سے استعفیٰ دینے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد سہیل آفریدی 15 اکتوبر 2025 سے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز ہیں۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جج عامر فاروق اور جج علی باقر نجفی پر مشتمل 3 رکنی بینچ 15 اکتوبر کو کیس کی سماعت کرے گا۔ ایڈووکیٹ شیر افضل مروت نے سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ تقرری چیلنج کر رکھی ہے۔
دائر درخواست میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ اور نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کو آئین و قانون کے مفافی قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سزا یافتہ شخص کسی عوامی عہدیدار کی نامزدگی کا اختیار نہیں رکھتا۔
اس سے قبل 14 ستمبر 2026 کو ہونے والی ابتدائی سماعت کے دوران عدالت نے صوبائی حکومت، اٹارنی جنرل اور خود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کی تھی۔
جبر پر مبنی استعفیٰ اور قانونی اعتراضات
دوران سماعت شیر افضل مروت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے وزیراعلیٰ آفس سے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ نہیں دیا تھا بلکہ یہ استعفیٰ پی ٹی آئی کے بانی کے کہنے پر ان سے زبردستی لیا گیا، جس کے بعد سہیل آفریدی کی تقرری کی گئی جو کہ آئین اور قانون کے خلاف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ آئین کی منشا ہے کہ پبلک آفس ہولڈر صرف اپنی مرضی سے استعفیٰ دے سکتا ہے۔ علی امین گنڈاپور نے تحریری طور پر لکھا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کے بانی کی ہدایت پر استعفیٰ دے رہے ہیں، تاہم گورنر نے ان کا استعفیٰ قبول نہیں کیا تھا۔
شیر افضل مروت نے نکتہ اٹھایا تھا کہ وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے لیے گورنر کا استعفیٰ منظور کرنا ضروری ہوتا ہے۔
اس موقع پر سماعت کے دوران جج علی باقر نجفی نے ریمارکس دیئے تھے کہ 2 دن بعد ایک اور استعفیٰ دیا گیا تھا، لیکن دوسرا استعفیٰ بھی شاید قبول نہیں ہوا تھا۔
نااہل شخص اور پراکسی حکومت
شیر افضل مروت نے نواز شریف پارٹی صدارت کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ سزا یافتہ یا نااہل شخص کسی عمومی یا عوامی عہدیدار کی نامزدگی کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ ہی پراکسی کے ذریعے ریاست چلا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے بانی کو نااہل قرار دیا جا چکا ہے، اس لیے ان کی ہدایت پر استعفیٰ دلوانا اور ریاست کو پراکسی کے ذریعے چلانا آئین کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔
اس نقطے پر جج عامر فاروق نے آئینی سوال اٹھایا اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اشارہ دیا کہ قانون کے مطابق انتخابات میں نااہل ہونے والے شخص کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔
واضح رہے کہ سہیل آفریدی 15 اکتوبر 2025 سے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز ہیں۔ اس کیس میں دائر کی گئی درخواست میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ علی امین گنڈاپور سے زبردستی لیے گئے استعفے اور سہیل آفریدی کی غیر آئینی تقرری کو کالعدم قرار دیتے ہوئے علی امین گنڈاپور کو دوبارہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر بحال کیا جائے۔



