پشاور ہائیکورٹ نے سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی لانگ مارچ کے لیے سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال سے متعلق کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے جواب طلب کرلیا۔
رواں ہفتے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اس وقت تنقید کی زد میں آئے تھے جب وہ عدالتی احکامات کے باوجود پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے پشاور سے لکی مروت سرکاری ہیلی کاپٹر پر پہنچے تھے۔
چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کی سربراہی میں پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی قاری ظاہر کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ نومبر 2025 میں پشاور ہائیکورٹ نے اہم فیصلے میں سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی، جبکہ حال ہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی، تاہم 4 اکتوبر کو احتجاجی لانگ مارچ کے آغاز کے موقع پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی مبینہ طور پر سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکی مروت پہنچے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ لانگ مارچ کے دوران سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ذمہ داران سے وضاحت طلب کی جائے۔
سماعت کے دوران عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے پر جواب طلب کرلیا۔
درخواست میں ماضی کے ایک واقعے کا بھی حوالہ دیا گیا، جس کے مطابق اکتوبر 2024 میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے دور حکومت میں اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کے دوران پنجاب پولیس نے 10 سے زائد سرکاری گاڑیوں اور 47 سرکاری اہلکاروں کو تحویل میں لے لیا تھا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی سہیل آفریدی کے سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے لانگ مارچ میں پہنچنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی۔ اور تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
سرکاری ہیلی کاپٹر پر سیاسی مارچ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈر کی کھلی خلاف ورزی۔ صوبے میں دہشت گردی پھیل رہی ہے اور نیرو بانسری بجا رہا ہے۔ https://t.co/pglaK4MidX
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) October 4, 2026
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی سہیل آفریدی کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے آمد کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا سرکاری ہیلی کاپٹر پر لانگ مارچ کی قیادت کے لیے لکی مروت پہنچنا توہین عدالت اور عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔



