وفاقی آئینی عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ المعروف القادر ٹرسٹ کیس میں سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی۔
جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بینچ 15 اکتوبر کو درخواست کی سماعت کرے گا۔
بشریٰ بی بی نے اپنے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت سے سزا معطلی کی درخواست کی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کی صحت، بالخصوص بینائی، کے مسائل کے باعث کیس کی جلد سماعت ضروری ہے۔
درخواست کے مطابق بشریٰ بی بی کو دورانِ قانونی کارروائی آنکھوں کی سنگین تکلیف لاحق ہوئی اور اپریل 2026 میں ایک آنکھ کا آپریشن بھی ہوا۔ وکلا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بینائی مزید متاثر ہوسکتی ہے، اس لیے سزا معطلی کی درخواست کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے۔
خاتون اور طبی مسائل کی بنیاد پر ریلیف کی استدعا
بشریٰ بی بی کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ خاتون ہونے کے ساتھ سنگین طبی مسائل کا سامنا کر رہی ہیں لہٰذا ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(1) کے پہلے پروویزو کے تحت سزا معطلی پر غور کیا جانا چاہیے۔
درخواست میں یہ مؤقف بھی اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ کے مطابق بشریٰ بی بی کا کردار بنیادی جرم کے ارتکاب کے بجائے معاونت اور اعانت تک محدود تھا۔
سزا کیا ہوئی تھی؟
17 جنوری 2025 کو احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے جبکہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
یہ مقدمہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے پاکستان کو واپس کیے گئے 190 ملین پاؤنڈ سے متعلق ہے۔ احتساب عدالت نے قرار دیا تھا کہ ملزمان نے رقم کی واپسی کے معاملے میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کو مبینہ طور پر غیر قانونی فائدہ پہنچایا۔
ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ اور پھر وفاقی آئینی عدالت تک معاملہ کیسے پہنچا؟
عمران خان اور بشریٰ بی بی نے اپنی سزاؤں کی معطلی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم مئی 2026 میں ہائیکورٹ نے دونوں کی درخواستیں مسترد کردیں اور قرار دیا کہ ان کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں سماعت کے لیے مقرر ہوچکی ہیں۔
اس کے بعد دونوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تاہم عدالت کے دفتر نے درخواستیں ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے واپس کردیں، دفتر کے مطابق چونکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے قومی احتساب آرڈیننس کی دفعہ 32 کے تحت اختیار استعمال کرتے ہوئے فیصلہ دیا تھا، اس لیے اس کے خلاف متعلقہ قانونی راستہ وفاقی آئینی عدالت میں دفعہ 32-A کے تحت بنتا ہے۔
چنانچہ بشریٰ بی بی نے 30 جولائی 2026 کو وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا اور اپنی سزا معطل کرنے کی درخواست دائر کی۔
کیس کی جلد سماعت کیوں مانگی گئی؟
بشریٰ بی بی کی قانونی ٹیم نے وفاقی آئینی عدالت کے دفتر سے کیس کی جلد سماعت کی درخواست بھی کی تھی۔ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا، بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری نے عدالت کے ایڈیشنل رجسٹرار سے ملاقات کرکے کیس کو رجسٹر اور جلد مقرر کرنے کی درخواست کی تھی۔
بعد ازاں وکیل انتظار حسین پنجوتھا نے میڈیا کو بتایا تھا کہ عدالت کے دفتر نے قانونی ٹیم کو یقین دہانی کرائی کہ کیس کو نمبر الاٹ کرکے مناسب بینچ کے سامنے مقرر کیا جائے گا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلیں بھی زیرِ التوا
اس معاملے میں تازہ پیش رفت یہ بھی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے گزشتہ سماعت پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا تھا کہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پہلے ہی وفاقی آئینی عدالت میں دائر ہے اور 17 ستمبر کو جلد سماعت کی درخواست بھی جمع کرائی جاچکی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر ہائیکورٹ سزا کے خلاف اپیلوں پر کارروائی آگے بڑھاتی ہے تو وفاقی آئینی عدالت میں زیرِ سماعت کارروائی متاثر ہوسکتی ہے۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے یہ شکایت بھی کی کہ انہیں دسمبر 2025 سے بشریٰ بی بی سے ملاقات کا موقع نہیں ملا۔
اب 15 اکتوبر کی وفاقی آئینی عدالت کی سماعت اس لحاظ سے اہم ہوگی کہ عدالت بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر کیا حکم جاری کرتی ہے۔



