اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
جج طاہر عباس سپرا نے مقدمے کی سماعت کے دوران ہدایت کی کہ عمران خان کو جسمانی طور پر یا بذریعہ ویڈیو لنک پیش کیا جائے۔
اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس پر ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کا واقعہ 18 مارچ 2023ء کو پیش آیا تھا، جب سابق وزیراعظم عمران خان توشہ خانہ کیس میں پیشی کے لیے جوڈیشل کمپلیکس پہنچے تھے، ان کی آمد کے دوران پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وفاقی وزرا فرخ حبیب، حماد اظہر، مراد سعید اور شبلی فراز کو اشتہاری قرار دے کر ان کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔
واثق قیوم اور حسن نیازی کے ناقابل ضمانت وارنٹ
علاوہ ازیں عدالت نے سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم اور رکن پنجاب اسمبلی حسن خان نیازی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 5 نومبر تک ملتوی کر دی۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف جوڈیشل کمپلیکس پر حملے کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں درج کیا گیا تھا، مقدمے میں جوڈیشل کمپلیکس کی جانب مارچ اور وہاں پیش آنے والے واقعات سے متعلق مختلف دفعات شامل کی گئیں۔
عدالت نے اس سے قبل بھی عدم حاضری پر حماد اظہر، شبلی فراز، مراد سعید اور فرخ حبیب سمیت متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیسز میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے جولائی 2024 میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے پروڈکشن آرڈر سے متعلق رپورٹ بھی طلب کر چکی ہے۔
اس کے علاوہ جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس میں اشتہاری ملزم علی نواز اعوان نے 2 جنوری 2024 کو انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں خود کو سرنڈر کر دیا تھا۔ درخواست گزار نے کہا تھا کہ ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے لیے تیار ہوں جس پر ڈیوٹی جج شاہ رخ ارجمند نے 50 ہزارروپے کے مچلکوں کے عوض علی نواز اعوان کی ضمانت منظور کر لی تھی۔



