پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ مارچ پانچویں روز میں داخل ہو گیا، آج قافلہ پشاور کے مضافاتی علاقے متنی سے ضلع خیبر کی جانب روانہ ہو گا۔
مارچ ملتوی کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے پی ٹی آئی کے ساتھ 2 اور 3 اکتوبر کو مذاکرات کے دو ادوار ہوئے تاہم فریقین کے مابین معاہدے پر اتفاق رائے نہ ہو سکا، جس پر پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی سمیت متعدد دیگر مطالبات کے حق میں 4 اکتوبر کو لکی مروت سے لانگ مارچ شروع کیا تھا۔
مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہل آفریدی نے کہا کہ میرے ہم وطنو! یہ اپنی تقدیر بدلنے کا وقت ہے۔ ایک لیڈر سو سال میں ایک بار پیدا ہوتا ہے، عمران خان کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو ایک تحفہ عطا کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے ہم وطنو! بہت دیر ہونے سے پہلے اٹھ کھڑے ہوں، اس موقع سے فائدہ اٹھائیں، باہر نکلیں۔ زندگی، موت، عزت اور ذلت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ جھوٹے خدا آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اپنا فیصلہ کریں، باہر نکلیں اور انقلاب کا آغاز کریں۔
“میرے پاکستانیو یہی موقع ہے اپنی تقدیر بدلنے کا میرے پاکستانیوں سو سالوں میں ایک لیڈر پیدا ہوتا ہے۔عمران خان کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو تحفہ دیا ہے۔ میرے پاکستانیو اٹھو اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے یہ عمران خان کے ساتھ کچھ کریں نکلو ، زندگی موت عزت زلت سب اللہ کے ہاتھ میں یہ جھوٹے خدا تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے فیصلہ کرو باہر نکلو اور انقلاب کا آغاز کرو “۔
وزیراعلی سہیل آفریدی
@SohailAfridiISF
#عوامی_مزاحمت_کی_للکار— PTI (@PTIofficial) October 8, 2026
گزشتہ روز وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سکیورٹی اجلاس بلانے پر گورنر فیصل کریم کنڈی پر سخت تنقید کی اور کہا کہ کسی کو جمہوریت پر شب خون مارنے نہیں دیں گے۔
گورنر پختونخوا کی جانب سے اجلاس بلان قابل مذمت
ان کا کہنا تھا کہ گورنر کی جانب سے گزشتہ روز کا ڈراما افسوسناک اور قابل مذمت ہے، گورنر چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بلا رہے ہیں اور غیر آئینی اجلاس منعقد کر رہے ہیں، گورنر کا اس نوعیت کے اجلاس کی صدارت کرنا آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے۔
دو دن پہلے وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی سے لانگ مارچ ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پارٹی اپنا احتجاج ختم کر دے تو حکومت اس کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرے گی۔
وزیراعظم نے پی ٹی آئی سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ خدارا اپنا لانگ مارچ اور دھرنا ختم کریں، اگر آپ اسے ختم کر دیں گے تو ہم یقیناً آپ کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں گے۔



