پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے کزن قاسم زمان کو پولیس نے حراست میں لے لیا، جس کے بعد راولپنڈی انتظامیہ نے انہیں 30 روز کے لیے نظر بند کرنے کے احکامات جاری کردیے۔
راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر ندیم ناصر نے سٹی پولیس افسر اور ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی کی سفارش پر قاسم زمان کی نظر بندی کا حکم جاری کیا۔
حکم کے مطابق قاسم زمان کو مینٹی ننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کے تحت 30 روز کے لیے حراست میں رکھا جائے گا۔
قاسم زمان کو اڈیالہ روڈ سے حراست میں لیا گیا
پولیس ذرائع کے مطابق قاسم زمان کو منگل کے روز اڈیالہ روڈ پر گورکھ پور کے علاقے سے حراست میں لیا گیا۔ انہیں ابتدائی طور پر اڈیالہ پولیس چوکی منتقل کیا گیا، جس کے بعد صدر بیرونی تھانے منتقل کردیا گیا۔
نظر بندی کے حکم میں قاسم زمان کو ایک سیاسی جماعت کا فعال کارکن قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ غیر قانونی اجتماع کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، جس سے امنِ عامہ کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔

اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی کوشش
قاسم زمان 22 ستمبر کو عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے تھے، تاہم ملاقات نہ ہوسکی۔ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو ہفتے میں دو مرتبہ اہل خانہ، وکلا اور دیگر متعلقہ افراد سے ملاقات کی اجازت دی تھی۔
قاسم زمان کی گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر رکھا ہے۔ پارٹی کے اہم مطالبات میں عمران خان تک رسائی اور ان کی رہائی بھی شامل ہے۔
پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر راولپنڈی اور اسلام آباد میں سکیورٹی اور حفاظتی اقدامات سخت کیے گئے ہیں جبکہ حکام اس سے قبل بھی مارچ سے پہلے متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کو ایم پی او کے تحت حراست میں لے چکے ہیں۔



