پاکستان تحریک انصاف نے لانگ مارچ کا روٹ تبدیل کردیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ لانگ مارچ کا قافلہ منگل کی رات کوہاٹ سے خیبر ضلع جائے گا، جس کے بعد پشاور پہنچے گا۔
کوہاٹ کے یونیورسٹی چوک پر لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر ضلع کے عوام نے مارچ کے شرکا کی میزبانی کی خواہش ظاہر کی، جس کے باعث روٹ تبدیل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر ضلع کے بعد قافلہ پشاور جائے گا۔اس سے قبل قافلے کو کوہاٹ سے براہ راست پشاور پہنچنا تھا اور مٹنی کے قریب رات قیام کا پروگرام تھا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا قافلہ لانگ مارچ کے تیسرے روز کوہاٹ سے روانہ ہوا، وزیراعلیٰ نے کوہاٹ کے عوام کی جانب سے استقبال اور حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
مطالبات آئینی اور قانونی ہیں، سہیل آفریدی کا پرامن احتجاج کا اعلان
سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے احتجاج کا راستہ اختیار کرنے سے قبل تمام آئینی، قانونی اور جمہوری ذرائع استعمال کیے۔ ان کے مطابق پارٹی کے مطالبات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی اور ان کے طبی علاج کی سہولت بھی شامل ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات کا مسودہ سوشل میڈیا پر جاری کردیا ہے اور حکومت سے سوال کیا کہ وہ ان مطالبات میں کسی ایک شق کی نشاندہی کرے جو آئین یا قانون کے خلاف ہو۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ غیر مسلح ہے اور احتجاج پرامن انداز میں کیا جائے گا۔ انہوں نے شرکا سے بھی پرامن رہنے کی اپیل کی۔
خیبرپختونخوا میں انسداد دہشتگردی پالیسی پر تنقید
وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخوا میں وفاقی حکومت کی انسداد دہشتگردی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں مختلف فوجی آپریشنز اور ڈرون حملوں کے باوجود دہشتگردی کا مسئلہ ختم نہیں ہوسکا۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ ان کی تجویز کردہ پالیسی کے ذریعے 100 روز میں صوبے میں امن بحال کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر عمران خان سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ جیل میں سابق وزیراعظم کی صحت متاثر ہورہی ہے۔
لانگ مارچ کا آغاز 4 اکتوبر کو ہوا
پی ٹی آئی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں اہم معاملات پر اتفاق نہ ہونے کے بعد 4 اکتوبر کو لکی مروت سے لانگ مارچ شروع کیا تھا، قافلہ کرک سے ہوتا ہوا پیر کے روز کوہاٹ پہنچا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے زیرِ قیادت پی ٹی آئی کا تاریخ ساز لانگ مارچ کرک سے کوہاٹ کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔ کارکنوں اور عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قدم پاکستان میں جمہوریت اور آئین کی بالادستی کا نیا باب لکھے گا۔
@SohailAfridiISF
#سر_بکف_میدان_میں https://t.co/eFFa5frDUk— PTI (@PTIofficial) October 5, 2026
ابتدائی منصوبے کے مطابق 6 اکتوبر کو قافلے نے کوہاٹ سے پشاور، 7 اکتوبر کو بادابیر سے چارسدہ کی جانب روانہ ہونا تھا جبکہ خیبر ضلع کے شرکا کو بادابیر میں قافلے میں شامل ہونا تھا۔ نئے روٹ کے تحت اب خیبر ضلع کو پشاور سے پہلے شامل کرلیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کا بڑا قافلہ 8 اکتوبر کو خیرباد میں جمع ہوگا، جہاں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
پی ٹی آئی نے پیر کے روز حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار رہنے کے بعد اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔



