وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا حکومت پر دہشتگردی کے معاملے سے لاتعلقی اور بے حسی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، اب بہت ہوچکا، اہم فیصلے کرنے کا وقت آگیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ مارچ آج چوتھے روز میں داخل ہوگیا ہے جبکہ گزشتہ روز گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے سکیورٹی صورتحال اجلاس بلائے جانے پر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی خبریں بھی زیرگردش ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر خواجہ آصف نے لکھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت نام نہاد ناکام سیاسی لانگ مارچ کے لیے سڑکوں پر گھوم رہی ہے، جبکہ اسی دوران دہشتگردوں نے خیبرپختونخوا کے عوام کے خلاف ایک اور دہشتگردی کی لہر شروع کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 6 اکتوبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردوں نے 5 بے گناہ افراد کو قتل کیا، جن میں 2 کسٹمز اہلکار بھی شامل تھے، لیکن اس سنگین واقعے پر وزیراعلیٰ سمیت صوبائی کابینہ مکمل طور پر بے حس دکھائی دی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پانچوں افراد کے قتل کی مذمت نہیں کی، سوگوار خاندانوں سے تعزیت نہیں کی اور نہ ہی ان کے جنازوں میں شرکت کی یا متاثرہ خاندانوں کے گھروں پر جا کر افسوس کیا۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ ایک ایسے صوبے میں جہاں دہشتگردی جاری ہے، وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ نے رات گئے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو گورنر کے سکیورٹی اجلاس میں شرکت کرنے پر سرزنش کے لیے اجلاس طلب کر لیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا، اسی لیے مختلف علاقوں میں صوبائی حکومت کے خلاف احتجاج ہو رہے ہیں۔ کے پی کے عوام کا بہت خون بہایا جا چکا ہے اور یہ صورتحال مزید برداشت نہیں کی جاسکتی۔
‘صوبائی حکومت کے دہشتگردوں سے ملی بھگت کی مثالیں موجود ہیں’
وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت کی دہشتگردوں سے ملی بھگت اور اس کے سہولت کاروں کے حوالے سے متعدد مثالیں اور شواہد موجود ہیں، جنہیں گزشتہ تین برسوں کے دوران پاکستانی عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی صوبے میں دہشت گردی سے مکمل لاتعلقی اور مجرمانہ بے حسی جاری …بس بہت ہوگیا!!!
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نام نہاد ناکام سیاسی لانگ مارچ کے لیے سڑکوں پر گھوم رہی ہے جب کہ ان کے سہولت کاروں نے اِسی دوران KPK کے لوگوں کے خلاف ایک تازہ دہشت گردی کی لہر شروع کر دی ہے۔ 6 اکتوبر کو ڈی آئی خان میں دہشت گردوں نے ایک بار پھر 5 بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ہلاک ہونے والے ان 5 میں سے دو کسٹم اہلکار تھے
اس سنجیدہ معاملے سے مکمل طور پر بے حس، مکمل صوبائی کابینہ، وزیر اعلیٰ سمیت، اپنے سیاسی ناکام لانگ مارچ میں پوری طرح مشغول ہے
ان بے حس اور بے شرم لوگوں نے ہمیشہ کی طرح ڈی آئی خان میں ان پانچ افراد کے بے گناہ قتل کی بھی پہلے کی طرح کوئی مذمت نہیں کی، سوگوار خاندانوں سے کوئی تعزیت نہیں کی، ان کے جنازے نہیں میں پڑھے یا کم از کم دیکھانے کی حد تک ہی صحیح ان کے گھروں تک جا کر افسوس نہیں کیا۔ یہ کسی بھی اعتبار سے نا قابل معافی ہے
بدقسمتی سے، اس کے برعکس، وزیراعلیٰ نے رات گئے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کے پی کے کو اپنی پارٹی کے کہنے پر گورنر کی سیکیورٹی میٹنگ میں شرکت پر آج سرزنش کرنے کے لئے اجلاس بلا رکھا ہے
ایک صوبہ جو دہشت گردی کی زد میں ہے اس کے وزیر اعلیٰ اور اسکی کابینہ نے صوبے کی عوام کو پوری طرح دہشت گردوں کے رحم پر چھوڑ دیا ہے۔ اسی لیے کے پی کے کے عوام مختلف علاقوں میں صوبائی حکومت کے خلاف پر سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں
یہ مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ کے پی کے کے لوگوں کا کافی خون بہایا جا چکا ہے، اس حکومت کی دہشت گردوں سے مکمل ملی بھگت اور اس کے سہولت کار ایکو سسٹم کی کافی مثالیں اور شواہد موجود ہیں۔ جو ہر پاکستانی پچھلے تین سالوں میں اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ چکے ہیں
ماضی میں نواز شریف اور اسکا پورا خاندان اور PMLN کی قیادت pti کے دور میں قید رہی۔وقت نے ثابت کیا کہ الزام بس الزام تھے۔ عمران خان کی فرمائش قید کیا جاتا تھا۔ مگرPMLN نے اپنے پارلیمنٹ اپنے رول کو آئین ذمہ داری سے نبھایا ۔ ملک اور اداروں یرغمال نہ بنایا۔ عدالتوں اور پارلیمنٹ میں قانونی اور آئینی جنگ لڑی۔ طالبان کے اتحادی نہ بنے ۔
اہم فیصلے کرنے کا وقت آ چکا ہے KPK کو مزید نا اہل، بے حس حکمران و طالبان کے اتحادیوں کے رحم او کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا. ۔ ملک کی وحدت کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ ایک پورے صوبے کو یرغمال نہیں جاسکتا۔ enough is enough— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) October 7, 2026
انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں نواز شریف اور ان کے خاندان سمیت مسلم لیگ ن کی قیادت پی ٹی آئی کے دور حکومت میں قید رہی، تاہم وقت نے ثابت کیا کہ لگائے گئے الزامات صرف الزامات تھے۔ جبکہ مسلم لیگ ن نے پارلیمنٹ میں اپنے آئینی کردار کو ذمہ داری سے ادا کیا اور ملک و اداروں کو یرغمال نہیں بنایا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے عدالتوں اور پارلیمنٹ میں قانونی و آئینی جنگ لڑی اور طالبان کے اتحادی نہیں بنے۔
‘اہم فیصلے کرنے کا وقت آچکا ہے’
خواجہ آصف نے کہا کہ اہم فیصلے کرنے کا وقت آچکا ہے، خیبرپختونخوا کو مزید نااہل اور بے حس حکمرانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ ملک کی وحدت کو خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا اور ایک پورے صوبے کو یرغمال نہیں بنایا جاسکتا۔
اس سے قبل خواجہ آصف کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ لانگ مارچ اسلام آباد آئے گا یا نہیں کوئی پیشگوئی نہیں کرسکتا۔ اور اگر لانگ مارچ اسلام آباد آیا تو حکومت تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ کیونکہ دارالحکومت کو ان کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ طالبان پاکستان دشمن قوت ہیں اور طالبان کو ساتھ ملا کر حملہ کریں گے تو تحفظ ہماری ذمہ داری ہو گی۔ جبکہ یہ شہدا کے جنازوں پر جاتے ہیں اور نہ دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں۔
‘کوشش ہے گورنر راج کا آخری آپشن استعمال نہ کیا جائے’
وزیر دفاع نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا، اور کوشش ہے گورنر راج کا آخری آپشن استعمال نہ کیا جائے۔ تاہم وقت بتائے گا تحریک انصاف سیاسی شہید بنے گی یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ شواہد نشاندہی کرتے ہیں ٹی ٹی پی خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت کا عسکری ونگ ہے۔



