پاکستان پیپلزپارٹی خیبرپختونخوا کے رہنما احمد کریم کنڈی نے گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے سکیورٹی صورتحال پر اجلاس کرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر کے اختیارات آئین میں درج ہیں، تنقید کرنے والے آئین پڑھیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے آج صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سکیورٹی اجلاس بلانے پر گورنر خیبرپختونخوا پر شدید تنقید کی جبکہ بعد ازاں اجلاس کے اعلامیہ میں بلاول بھٹو زرداری پر بھی تنقید کی گئی۔
احمد کریم کنڈی جو گورنر خیبرپخونخوا فیصل کریم کنڈی کے بھائی ہیں، نے پشاور میں دیگرپارٹی رہنماؤں کے ساتھ پریس کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی پر تنقید کرنے والے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں، تحریک انصاف خیبرپختونخوا کو مزید اندھیروں کی طرف دھکیل رہی ہے، ملک مزید انتشار اور تشدد کی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
احمد کریم کنڈی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ خیبرپختونخوا حکومت کو انتشار، فساد اور تشدد کی سیاست ترک کرنے کا مشورہ دیا تاہم تحریک انصاف نے ہمیشہ تصادم اور دھمکی کی سیاست کو ترجیح دی۔
احمد کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ آئین میں وفاق اور گورنر کے اختیارات واضح طور پر درج ہیں، اس لیے سیاسی جماعتوں کو آئینی حدود اور اداروں کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے، انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے شاید اپنی زندگی میں آئین نہیں پڑھا، انہیں پہلے آئینی دائرہ کار سمجھنے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے گزشتہ روز صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر سکیورٹی اجلاس بلایا گیا تھا، جس پر سوشل میڈیا پر بھی کافی تنقید اور تبصرے کیے گئے تھے کہ اور اس اجلاس کو صوبے میں گورنر راج کی جانب ایک قدم قرار دیا جارہا تھا۔
پیپلزپارٹی رہنما نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کو انسداد دہشت گردی کے لیے 130 ارب روپے فراہم کیے گئے تاہم صوبے میں امن و امان کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا مسلح افراد کے ہاتھوں میں آچکا ہے جس کے ذمہ داروں کو اپنی پالیسیوں پر غور کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 13 برس سے تحریک انصاف کی حکومت ہے، اب پی ٹی آئی کو قوم کو بتانا چاہیے کہ اس عرصے کے دوران صوبے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے، پیپلزپارٹی نے خیبرپختونخوا میں امن کے قیام کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق کوششیں کیں اور صوبے کے مفاد میں ہمیشہ کردار ادا کیا۔
احمد کریم کنڈی نے کہا کہ پیپلزپارٹی پر تنقید کرنے والے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں، سابق اور موجودہ وزیراعلیٰ بھی انتشار کی سیاست کر رہے ہیں جبکہ صوبے کے حالات وفاق کے ساتھ تعلقات بہتر بنا کر بھی سنوارے جاسکتے ہیں اور خراب کرکے مزید پیچیدہ بھی کیے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے پشاور میں ہونے والے کابینہ اجلاس کے اعلامیے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ صوبے کے لیے کام کیا لیکن اس کے باوجود اس کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے صوبائی کابینہ اجلاس میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کو انتشار اور وفاق کے ساتھ محاذ آرائی کی سیاست ختم کرنا ہوگی۔
احمد کریم کنڈی نے کہا کہ آئین کے تحت وفاق جو پالیسی مرتب کرتا ہے، صوبے اس پر عمل درآمد کے پابند ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے معاملے پر وفاقی پالیسی پر عمل کر رہی ہے؟
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، لیکن صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اونر شپ لینے کے لیے تیار نہیں۔ وفاق کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے فراہم کیے جانے والے فنڈز کے استعمال کی وضاحت بھی ہونی چاہیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ سیاسی تقسیم کو فوقیت دی اور اب وفاق پر چڑھائی کی باتیں صوبے کو مزید مشکلات اور اندھیروں کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے مسائل وفاق کے ساتھ محاذ آرائی سے نہیں بلکہ بہتر رابطے اور تعاون سے حل کیے جاسکتے ہیں۔ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے وفاق اور صوبائی حکومت کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔



