پاکستان پیپلزپارٹی خیبرپختونخوا کے رہنما احمد کریم کنڈی نے صوبائی کابینہ کے اعلامیہ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی پر تنقید کرنے والے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں۔
احمد کریم کنڈی نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف خیبرپختونخوا کو مزید اندھیروں کی طرف دھکیل رہی ہے، ملک مزید انتشار اور تشدد کی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
احمد کریم کنڈی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ خیبرپختونخوا حکومت کو انتشار، فساد اور تشدد کی سیاست ترک کرنے کا مشورہ دیا تاہم تحریک انصاف نے ہمیشہ تصادم اور دھمکی کی سیاست کو ترجیح دی۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو بارہا کہا گیا کہ تشدد کی سیاست سے گریز کیا جائے کیونکہ ملک اور صوبے کے مسائل محاذ آرائی سے نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات اور آئینی طریقہ کار سے حل ہو سکتے ہیں، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ پارلیمان کے اندر اور باہر مثبت سیاسی کردار ادا کیا ہے۔
احمد کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ آئین میں وفاق اور گورنر کے اختیارات واضح طور پر درج ہیں، اس لیے سیاسی جماعتوں کو آئینی حدود اور اداروں کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے، انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے شاید اپنی زندگی میں آئین نہیں پڑھا، انہیں پہلے آئینی دائرہ کار سمجھنے کی ضرورت ہے۔
پیپلزپارٹی رہنما نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کو انسداد دہشت گردی کے لیے 130 ارب روپے فراہم کیے گئے تاہم صوبے میں امن و امان کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا مسلح افراد کے ہاتھوں میں آچکا ہے جس کے ذمہ داروں کو اپنی پالیسیوں پر غور کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 13 برس سے تحریک انصاف کی حکومت ہے، اب پی ٹی آئی کو قوم کو بتانا چاہیے کہ اس عرصے کے دوران صوبے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے، پیپلزپارٹی نے خیبرپختونخوا میں امن کے قیام کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق کوششیں کیں اور صوبے کے مفاد میں ہمیشہ کردار ادا کیا۔
احمد کریم کنڈی نے کہا کہ پیپلزپارٹی پر تنقید کرنے والے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں، سابق اور موجودہ وزیراعلیٰ بھی انتشار کی سیاست کر رہے ہیں جبکہ صوبے کے حالات وفاق کے ساتھ تعلقات بہتر بنا کر بھی سنوارے جاسکتے ہیں اور خراب کرکے مزید پیچیدہ بھی کیے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے پشاور میں ہونے والے کابینہ اجلاس کے اعلامیے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ صوبے کے لیے کام کیا لیکن اس کے باوجود اس کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
احمد کریم کنڈی نے کہا کہ ملک کو اس وقت سیاسی استحکام، امن اور آئین کی بالادستی کی ضرورت ہے نہ کہ انتشار اور دھمکیوں کی سیاست کی۔
انہوں نے صوبائی کابینہ اجلاس میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کو انتشار اور وفاق کے ساتھ محاذ آرائی کی سیاست ختم کرنا ہوگی۔
احمد کریم کنڈی نے کہا کہ آئین کے تحت وفاق جو پالیسی مرتب کرتا ہے، صوبے اس پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے معاملے پر وفاقی پالیسی پر عمل کر رہی ہے؟
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، لیکن صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اونر شپ لینے کے لیے تیار نہیں۔ وفاق کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے فراہم کیے جانے والے فنڈز کے استعمال کی وضاحت بھی ہونی چاہیے۔
پیپلزپارٹی رہنما کا کہنا تھا کہ آئین گورنر کو سکیورٹی سے متعلق اجلاس طلب کرنے کا اختیار دیتا ہے، اس لیے گورنر کی جانب سے آئی جی کو سکیورٹی اجلاس میں طلب کرنا ان کا آئینی حق ہے۔ وزیراعلیٰ کو چاہیے کہ آئین پڑھیں اور دیکھیں کہ گورنر کے اختیارات کے بارے میں آئین کیا کہتا ہے۔
احمد کریم کنڈی نے کہا کہ جو لوگ دوسروں کو آئین کا درس دیتے ہیں، انہیں خود بھی آئین پڑھنا چاہیے یا سیاسی مکالمے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ سیاسی تقسیم کو فوقیت دی اور اب وفاق پر چڑھائی کی باتیں صوبے کو مزید مشکلات اور اندھیروں کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے مسائل وفاق کے ساتھ محاذ آرائی سے نہیں بلکہ بہتر رابطے اور تعاون سے حل کیے جاسکتے ہیں۔ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے وفاق اور صوبائی حکومت کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔



