مشیر وزیر اعظم برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے پاکستان تحریک انصاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کو یرغمال بنا کر اپنے مطالبات نہیں منوائے جاسکتے، ذاتی ایجنڈے کو قومی مفاد پر ترجیح نہ دی جائے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اپوزیشن کو مذاکرات کی آفر دے چکے ہیں، پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ اس دعوت کو قبول کرے اور دھرنا منسوخ کردے۔
رانا ثنا اللہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی بھی صورت ریاست کو یرغمال بنا کر اور سیاسی عدم استحکام کے رویے سے کسی بھی مطالبے کو منوایا نہیں جا سکتا، پاشا صاحب کے کامیاب تجربے کے بعد پی ٹی آئی کو شناخت ملی، پی ٹی آئی گالم گلوچ اور عدم برداشت کے کلچر کو فروغ دینے میں کامیاب رہی ہے، اب بھی سوشل میڈیا اور میڈیا پر ایسی صورتحال پیدا کر دی جاتی ہے۔
’پی ٹی آئی نے سیاسی رواداری کا خاتمہ کردیا‘
مشیر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیاسی رواداری کو ختم کر دیا گیا، پی ٹی آئی نے ایک سیاسی جماعت کے طور پر اپنے اس ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے،2014 کے بعد سے پی ٹی آئی اسلام آباد کا گھیراؤ ہمیشہ کرنا چاہتی ہے جس کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کے تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف شہداء کے لاشے پڑے ہیں، کیا کسٹم اور پولیس کے شہدا (ن) لیگ کے کارکن ہیں؟ وہ خیبر پختونخوا کے باشندے ہیں، مسلح افواج کے شہدا کی بڑی تعداد خیبر پختونخوا سے ہے۔
’خیبر پختونخوا کے عوام نے لانگ مارچ مسترد کردیا‘
رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت ڈھول بجا کر لوگوں کو اکٹھا کر رہی تھی اور ورغلا رہی تھی مگر صوبے کے عوام نے اس کو مسترد کر دیا، جب سے لانگ مارچ شروع کیا کسی جگہ یہ چند ہزار سے زیادہ لوگ اکٹھے نہیں کرسکے۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 4 اکتوبر سے شروع ہونے والا لانگ مارچ چوتھے روز میں داخل ہو گیا ہے ،آج قافلہ پشاور کے مضافاتی علاقے متنی سے خیبر ضلع کی جانب روانہ ہو گا۔
مشیر وزیراعظم کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ کیمپس کے لیے کروڑوں روپے اکٹھے کیے گئے مگر وہاں لیٹنے کے لیے دریاں تک نہیں تھیں، خیبر پختونخوا کی حکومت کو باور کروایا گیا سمجھایا گیا مگر وہ کہتے ہیں کہ میرا ایجنڈا لوگوں کی خدمت نہیں بلکہ عشق عمران میں مرنا ہے۔
’مذاکرات میں ڈیڈلاک کا باعث بننے والی بات کو غلط پیش کیا جا رہا‘
رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات میں ڈیڈلاک کا باعث بننے والی بات کو غلط طور پر پیش کیا جا رہا ہے، سلمان اکرم راجا نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں ہمارا نقطہ نظر شامل نہیں کیا گیا یہ بالکل غلط تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان لانگ مارچ روکنے کے لیے ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے تھے۔ 2 اور 3 اکتوبر کو کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد دونوں جانب سے دعوے اور الزامات عائد کیے گئے جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ جاری ہے۔
مشیر وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی تو پہلے سے بنی ہوئی ہے، مسلح افواج اسے بڑی کامیابی سے آگے بڑھا رہی ہے، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پہلے سے ہو رہے ہیں جن پر ان کو اعتراض ہے۔
’خیبرپختونخوا میں کوئی نیا آپریشن نہیں ہونے جا رہا‘
رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں کوئی نیا آپریشن نہیں ہونے جا رہا اور کوئی آئی ڈی پیز نہیں بنیں گے، فیلڈ مارشل اور وفاقی حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ کوئی نئے آئی ڈی پیز نہیں بنانے جا رہے۔
انہوں ن کہا کہ ہمارا دوسرا مطالبہ افغانستان سے ہے کہ آپ اپنی سرزمین دہشت گردی کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، ہمارے دوست ممالک سعودی عرب، قطر، چین نے اپنی بھرپور کوشش کی اور افغان رجیم کو سمجھایا۔ افغان رجیم تیار نہیں ہوئے، وزیر دفاع دو مرتبہ میٹنگ کے لیے استنبول گئے، پاکستان کی پالیسی ہے افغان سرزمین سے اگر پاکستان میں دہشت گردی کے لیے کوئی منصوبہ بنا تو اسے ختم کریں گے، ہم نے ثبوت کے ساتھ محدود کارروائیاں کی ہیں ۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ایپکس کمیٹی کا صوبائی سربراہ وزیر اعلیٰ ہوتا ہے اور سہیل آفریدی نے 11 ماہ میں صرف ایک میٹنگ منعقد کی ،اس صورت حال میں ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جو پالیسی ہے اس پر عمل ہو، اس پالیسی کی کامیابی میں کمی صوبائی حکومت کی غیر حاضری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلح افواج کا کام دہشت گردوں کو ختم کرنا ہے اور بعد میں نظام سول ایڈمنسٹریشن نے سنبھالنا ہے مگر وہاں تو 5 اضلاع میں پولیس اسٹیشن ہی نہیں ہیں، 17 ہزار پولیس کی آسامیاں خالی ہیں جبکہ سی ٹی ڈی کے 3300 لوگ ہیں جس میں سے 25 مستقل اور باقی کنٹرکٹ پر ہیں، پولیس اور سی ٹی ڈی کو بجٹ ہی نہیں دیا جا رہا۔
رانا ثنا اللہ نے سوال اٹھایا کہ کروڑوں لوگوں کی جان کی حفاظت کون کرے گا؟ اس صورت حال کو زیادہ دیر آگے نہیں چلایا جا سکتا۔ اب پولیس نے بھی بہت جرات سے کام لیا ہے اور ان کے لوگ بھی شہید ہو رہے ہیں، انہوں نے موجودہ آئی جی خیبر پختونخوا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ مبارکباد کے مستحق ہیں ۔


