امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کو امریکا کے مطالبات پورے کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان جاری 7 ماہ کی جنگ ختم کرنے کیلئے اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت میں “بامعنی کمی” کرنا ہوگی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کو خصوصی انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ کسی بھی معاہدے کیلئے ایران کو مستقبل میں جوہری افزودگی کم کرنے کی یقین دہانی کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
جے ڈی وینس نے سوال اٹھایا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا تو اسے 60 فیصد تک افزودہ ایندھن کی ضرورت کیوں ہے؟انہوں نے کہا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اظہار کرنا چاہتا ہے تو اسے انتہائی افزودہ ایندھن تیار نہیں کرنا چاہیے۔
امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ امریکا محض بیانات کے بدلے عملی اقدامات نہیں کرے گا۔
ایران اور امریکا نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔آبنائے ہرمز عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کا ایک اہم سمندری راستہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی تازہ پیشکش مسترد کر دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد فوجی کارروائیاں مزید تیز کی جا سکتی ہیں۔
وینس نے کہا کہ امریکا اب بھی معاہدے کیلئے تیار ہے تاہم واشنگٹن ایران سے جوہری پروگرام کے حوالے سے ٹھوس رعایت کا مطالبہ کرے گا۔
‘ایران میں فیصلہ کون کرتا ہے، واضح نہیں’
جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات کو پیچیدہ بنانے والی ایک اہم بات یہ ہے کہ واشنگٹن کو یہ واضح نہیں کہ ایران میں فیصلے کون کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بات چیت کر رہا ہے تاہم ایران کے طاقت کے ڈھانچے میں دونوں رہنماؤں کے اختیارات کی حدود واضح نہیں۔
وینس کے مطابق جنگ کے آغاز میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں فیصلہ سازی کے نظام کے بارے میں مزید سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے ایرانی ہم منصب کون ہیں اور ایران میں فیصلہ سازی کا نظام کیسے کام کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ اس کے برعکس ہے اور یہ امریکی حکام کے متضاد مؤقف اور ملے جلے پیغامات میں ہے۔
آبنائے ہرمز اور جنگی صورتحال
وینس نے بتایا کہ انہوں نے جنگی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے محاذ پر موجود کمانڈروں سے ذاتی طور پر بھی بات چیت کی ہے۔
انہوں نے ہتھیاروں کی شدید قلت سے متعلق خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی فوجی کبھی کبھار آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں تاہم وہ اس آبی گزرگاہ کے ذریعے توانائی کی برآمدات کو بڑی حد تک روکنے میں ناکام ہیں۔
وینس نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا وہ امن مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں تاہم انہیں وائٹ ہاؤس کے اہم مذاکرات کار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا مذاکرات میں ضرور شامل ہے تاہم بالآخر تمام معاملات کی قیادت امریکی صدر کر رہے ہیں۔
جنگ کی بھاری معاشی قیمت
ایران جنگ امریکا کیلئے سیاسی طور پر بھی اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ رائٹرز کے مطابق جنگ پر ہر ماہ تقریباً 3 ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔
توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث صدر ٹرمپ اور ری پبلکنز کو ان ریاستوں میں دفاعی پوزیشن اختیار کرنا پڑ رہی ہے جہاں کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ہونے والے انتخابات میں ہوگا۔
2028 کے صدارتی انتخاب پر وینس کا مؤقف
الاسکا میں وینس نے ری پبلکن سینیٹر ڈین سلیوان کی انتخابی مہم میں شرکت کی۔ سلیوان ڈیموکریٹک امیدوار میری پیلٹولا کے خلاف سخت مقابلے میں ہیں۔
ریلی کے دوران سلیوان نے ایک موقع پر وینس کو نائب صدر کے بجائے غلطی سے امریکا کا صدر کہہ کر متعارف کرانے کی کوشش کی۔
جے ڈی وینس کو صدر ٹرمپ کے بعد وائٹ ہاؤس کیلئے ری پبلکن پارٹی کے اہم ممکنہ امیدواروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
تاہم رائٹرز سے گفتگو میں وینس نے کہا کہ انہوں نے 2028 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ وہ فطری طور پر کام مؤخر کرنے والے شخص ہیں اور انہوں نے اس بارے میں زیادہ نہیں سوچا۔
امریکا، ایران جنگ
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کو 7 ماہ گزر چکے ہیں۔ جنگ کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثرات مرتب ہوئے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مذاکرات کا ایک اہم معاملہ ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ ہفتوں میں جنگ کے خاتمے کیلئے تجاویز کا تبادلہ ہوا ہے تاہم واشنگٹن کی جانب سے ایران سے جوہری افزودگی کی صلاحیت میں ٹھوس کمی کا مطالبہ اور تہران کی جانب سے امریکی مؤقف پر تنقید کے باعث مذاکرات اب بھی پیچیدہ ہیں۔



