ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا کو خطے سے نکال دیا جائے گا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثے بحال کرنے سمیت کسی بھی رعایت کی پیشکش کی تردید کی ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے ایکس پر جاری بیانات میں کہا کہ امریکا کو ایرانی جنگجوؤں اور آبنائے ہرمز کے محافظوں کے ہاتھوں ’’تکلیف دہ ضربیں‘‘ لگی ہیں اور وہ اب بحیرہ عرب سے آگے جانے کی ہمت نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی امریکا نے یہ خطرہ مول لیا، اسے نقصان ہی اٹھانا پڑا اور وہ دن دور نہیں جب بحیرہ عرب بھی امریکی موجودگی سے پاک ہوجائے گا۔
Today, because of the painful blows they [the enemies] have suffered at the hands of the valiant [Iranian] fighters & the guardians of the #Strait_of_Hormuz, they dare not advance beyond the Arabian Sea. It won’t be long before the Arabian Sea rids itself of their presence too.
— Ayatollah Mojtaba Khamenei (@MKhamenei_ir) September 28, 2026
ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے پیغامات میں مزید کہا کہ ایران کے ’’دشمن‘‘ نے اسلامی نظام کی سماجی بنیادوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی، تاہم مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ایرانی عوام اپنے مؤقف کے دفاع اور آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے متحد ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو بعض لوگ دنیا کی ’’چوتھی سپر پاور‘‘ سمجھتے ہیں، تاہم ان کے مطابق یہ رائے دنیاوی حساب کتاب کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے جبکہ “الہیٰ پیمانوں کے مطابق” ایران “دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے۔”
تہران کا مزید مذاکرات سے انکار
اسی دوران ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے ایک نامعلوم سورس کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ایرانی وفد کا امریکا کے ساتھ مزید مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں۔
Iranian FM’s stay in New York not extended: @IRIMFA_SPOX https://t.co/O6j37LYNMj pic.twitter.com/I521LkiVru
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) September 28, 2026
ارنا کے مطابق ایران کا مؤقف قطری ثالث کے ذریعے امریکی فریق تک واضح طور پر پہنچا دیا گیا ہے۔
دوسری جانب الجزیرہ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک میں قطری ثالثوں سے ملاقات کی، جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی ایک تجویز پر بات چیت کی گئی۔
عراقچی نے کہا کہ قطری ثالث زیر بحث تجاویز امریکا تک پہنچائیں گے اور انہیں امید ہے کہ واشنگٹن منگل تک اپنے حتمی جواب سے آگاہ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ملاقات میں ایران کی شرائط پوری کرنے اور ان پر عمل درآمد کے لیے ممکنہ حل پر بات ہوئی۔
Told @MeetThePress:
President Pezeshkian and I did not come to New York to sell a war. We came to forge peace.
Iran nonetheless remains steadfast in the face of any aggression—even if it comes to an apocalyptic war. At the same time, we are ready for real diplomacy.— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) September 27, 2026
اس سے قبل عراقچی نے ایکس پر کہا تھا کہ صدر مسعود پزشکیان اور وہ نیویارک “جنگ بیچنے” نہیں بلکہ امن کے لیے آئے ہیں۔ ان کے بقول ایران کسی بھی جارحیت کے سامنے ڈٹا رہے گا، تاہم حقیقی سفارت کاری کے لیے بھی تیار ہے۔
پابندیوں میں نرمی کی خبر ‘فیک نیوز’ ہے
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ٹھوس اقدامات کے بدلے تہران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ خبر درست نہیں اور انہوں نے ایران کو کچھ بھی پیش نہیں کیا۔
Axios just released a story that “Trump” offered Sanctions Relief and Frozen Funds to Iran. This is untrue. I offered them NOTHING! Axios’ story, like most others, is a HOAX, used only for purposes of satisfying their Trump Derangement Syndrome. They should withdraw this fake… pic.twitter.com/EnhkWVssM2
— Commentary Donald J. Trump Truth Social Posts On X (@TrumpTruthOnX) September 28, 2026
یاد رہے کہ امریکی ویب سائٹ ایکسیوز نے نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ ایران کی جانب سے جوہری پروگرام کے حوالے سے ’’ٹھوس‘‘ اقدامات کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثے جاری کرنے پر رضامند ہوسکتے ہیں۔
اسی طرح سی این این نے بھی ایک نامعلوم امریکی عہدیدار کے حوالے سے اسی نوعیت کی رپورٹ دی تھی۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے پیر کو دونوں ممالک کے حکام نے ثالثوں کے ذریعے الگ الگ رابطے کیے۔
امریکی صدر نے ایران کی جوہری صلاحیت کمزور کرنا جنگ کے مقاصد میں شامل قرار دیا ہے۔ ایران جوہری ہتھیار رکھنے سے انکار کرتا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے فریق کی حیثیت سے اسے پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی تیار کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔
