تہران، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پرآئندہ جمعہ کو دستخط کئے جائینگے جبکہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی اس اہم پیش رفت سے قبل علاقائی دورے بھی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔
نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اہم سفارتی پیش رفت ہوئی ہے اور ایران ہمیشہ مسائل کے حل کیلئے بات چیت اورسفارت کاری کے راستے کو ترجیح دیتا آیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی شامل ہے، جبکہ لبنان کے خلاف جارحیت کا خاتمہ بھی اس معاہدے کا لازمی جزو ہوگا۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ ایران اور لبنان کے عوام نے اسرائیلی جارحیت کا ڈٹ کر سامنا کیا اور اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔
ایران ‘امریکا کی کالونی’ بن جائے گا؛ امن معاہدے پر سخت گیر ایرانیوں کا احتجاج
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی اعلیٰ قیادت کی شہادتوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گا اور پوری قوم اپنی قیادت اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ جنگ کے دوران ایرانی عوام نے استقامت، اتحاد اور قومی یکجہتی کا عملی مظاہرہ کیا، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات اورقانونی حقوق کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرنے میں ناکام رہی، جو بین الاقوامی نظام کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔
ان کے مطابق مجوزہ مفاہمتی یادداشت خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
