واشنگٹن: امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی وفد نے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ثالثوں کے ذریعے ہونے والے مذاکرات میں مثبت گفتگو ہو رہی ہے۔
امریکی اہلکار کے حوالے سے میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جوہری معاملے پر لچک دکھائی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اقوام متحدہ اجلاس میں شرکت کے بعد اب بھی نیویارک میں موجود ہیں۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ثالثوں کے ساتھ مذاکرات میں امریکی فریق کی نمائندگی کون کر رہا ہے۔
اس سے قبل امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ قطری ثالث ایرانی وزیر خارجہ اور امریکی فریق کے ساتھ الگ الگ مذاکرات کریں گے۔ جنرل اسمبلی اجلاس میں ایران کی جانب سے پیش کی گئی 7 روزہ تجویز کے ترمیم شدہ مسودے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی “اسنا” نے بھی تصدیق کی تھی کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پیر کو امریکا میں ثالثوں سے ملاقات کریں گے۔ اور دونوں فریق موجودہ صورتحال سے متعلق تازہ ترین تجاویز اور آرا کا جائزہ لیں گے۔
دوسری جانب العربیہ نے بھی دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیشکش کی گئی ہے۔ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایٹمی معاملے میں مثبت پیشرفت پر ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے کے لیے تیار ہیں۔
امریکا نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کا دعویٰ مسترد کر دیا
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے پاسداران انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کرتا۔
امریکی سینٹ کام کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ایران کے پاس مؤثر بحریہ موجود نہیں جبکہ امریکی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ایرانی بحری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول نہ ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ہزاروں تجارتی جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزر چکے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے واضح کیا تھا کہ امریکی اور اتحادی افواج نے آبنائے ہرمز سے 2 ہزار سے زائد تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت میں معاونت کی، جبکہ ایک ارب بیرل سے زائد خام تیل بھی اسی راستے منتقل کیا جاچکا ہے۔



